فلور ملز کے پاس گندم کا ذخیرہ ختم آٹے کے بحران کا خدشہ

ٹریڈرزاورایکسپورٹرزکوگندم کی فراہمی فی الفوربنداورنقل وحمل پربین الصوبائی پابندی عائدکی جائے،تاجررہنما الیاس کباڈیا.

شہریوںنے قلت کے پیش نظر آٹے کی زیادہ خریداری شروع کردی، 10کلوآٹے کا تھیلا430سے 440روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، دکانوں میں بھی آٹے کی کمی۔ فوٹو: فائل

کراچی اور حیدرآباد میں فلور ملوں کے پاس گندم کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے۔

فلور ملز مالکان نے حکومت کی جانب سے ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز کو گندم کی فراہمی فی الفور بند کرنے اور گندم کی نقل و حمل پر بین الصوبا ئی پا بندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر کراچی اور حیدرآباد میں آٹے کے بحران کا سامنا ہوگا، فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے وائس چیئرمین الیا س کباڈیا نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی 70سے زائد فلور ملز کو ماہانہ 15 لاکھ بوری گندم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت حکومت سندھ کی جانب سے صرف 4لاکھ بوری گندم ماہانہ فلور ملز کو فراہم کی جارہی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹوں تک آٹا پہنچانا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ آٹے کا بحران قیمتوں میں اضافے کے لیے کیا جارہا ہے، انھوں نے کہا کہ فلور ملزکوگندم کی تسلسل سے فراہمی حکومت سندھ کی ذمے داری ہے لیکن گذشتہ ایک ماہ قبل کراچی کے گندم گوداموں میں 16لاکھ بوریاں موجود تھیں جو اب کم ہوکر سیکڑوں میں رہ گئی ہیں،انھوں نے کہا کہ رواں سال گندم کی پیداوار وافر مقدار میں ہوئی ہے اور سندھ میں گندم کی کمی نہیں لیکن گذشتہ دو ماہ سے ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز نے بھاری مقدار میں گندم بیرونِ ملک اور دوسرے صوبوں کو برآمد کردی، یومیہ فی مل 300بوری گندم فراہم کی جارہی ہیں۔


یہ گندم فلور ملز کو چلانے اور ضرورت کے مطابق کراچی میں آٹا تیار کرنے کے لیے ناکافی ہے، انھوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز 2800روپے گندم خرید کر 3300سے 3400 میں فروخت کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز کے بجائے فلورملز کو ضرورت کے مطابق گندم فراہم کی جائے، انھوںنے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی سے کشمور تک تمام فلور ملز کو گندم لبرل پالیسی کے تحت دی جائے، سندھ کی گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر فوری پابندی عائد کی جائے،کراچی میں گندم اندرون سندھ سے منگوائی جائے تاکہ آٹے کے بحران کو بڑھنے سے روکا جائے۔



دریں اثنا پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کی جانب سے حکومت کودسمبر کے وسط سے ہی آٹے کے ممکنہ بحران سے آگاہ کیا جارہا تھا، فلور ملز مالکان نے وزارت خوراک سندھ کو 11دسمبر سے 31دسمبر کے دوران 5 خطوط ارسال کیے ،جن میں کراچی کی فلور ملوں کا کوٹہ کم کرکے ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز کو گندم فراہم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کراچی کی ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا، فلور ملز مالکان نے فوڈ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی شنوائی نہ ہونے پر چیف سیکریٹری سندھ کو بھی 2جنوری کو اپنے ایک خط میں فوڈ ڈپارٹمنٹ کی پالیسی سے پیدا ہونے والے مسائل اور آٹے کے بحران سے آگاہ کردیاتھا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں دکانوں پر بھی آٹے کا محدود اسٹاک رہ گیا ہے، دکانداروںکے مطابق موسم سرما میں آٹے کی کھپت بڑھ جا تی ہے اور موجودہ حالات میں آٹے کے بحران کے پیش نظر صارفین میں افراتفری پا ئی جاتی ہے اور صارفین نے قلت کے پیش نظر آٹے کی زیادہ خریداری شروع کردی ہے جس سے بحران کی شدت میں بھی مزید اضافے کا خدشہ ہے، دکانداروں کے مطابق فلور ملیں 10کلو آٹے کا تھیلا دکانوں تک 420سے 425روپے تک پہنچارہی ہیں جو دکاندار اپنا منافع شامل کرکے 430سے 440روپے میں فروخت کررہے ہیں، آٹے کی قیمت بڑھنے سے تندورکی روٹی، ڈبل روٹی، پاپے، بن سمیت بیکری کے تمام آئٹمز بھی مہنگے ہونے کا خدشہ ہے ۔
Load Next Story