ایران کے جوہری تجربے پر نئی امریکی پابندیاں
ایران سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی سمیت تمام آپشن کھلے ہیں
۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
امریکا نے بیلسٹک میزائل تجربے کے جواب میں ایران پر مزید نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں 13 افراد اور 12 کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ 8 افراد کا تعلق ایران، 3 کا چین اور 2 کا لبنان سے ہے۔
بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں میں چین، متحدہ عرب امارات اور لبنان کی کمپنیاں شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر دہشتگردی کی مسلسل حمایت کا الزام بھی لگایا ہے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو امریکا، خطے اور امریکا کے اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پابندیوں کا شکار کمپنیوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس اور ایک ٹوئیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران آگ سے کھیل رہا ہے، وہ اوباما کا نرم رویہ خاطر میں نہیں لایا، اسے معلوم ہونا چاہیے میں اوباما سے مختلف ہوں، ایران سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی سمیت تمام آپشن کھلے ہیں، وہ بیلسٹک میزائل تجربات روک دے ورنہ سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اقتصادی پابندیوں سمیت ہر امریکی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے نئی امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناتجربہ کار شخص کی بیکار دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، ہمارے ہتھیار کسی ملک کے خلاف نہیں۔
ادھر ایرانی سائنسدان سامیرا اصغری نے امریکا میں داخلے پر پابندی پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ کر دیا۔ ایران نے انٹرنیشنل ریسلنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے امریکی اتھلیٹس کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکی صدر کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں، نیویارک میں سیکڑوں یمنی اور دیگر مسلم امریکی شہریوں نے پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا، مسلمانوں نے بروکلین سٹی ہال کے سامنے کھلے آسمان تلے نماز ادا کی۔
ٹیکساس میں سالانہ ٹیکساس مسلم ڈے کے موقع پر ہزاروں افراد نے قانون ساز اسمبلی کی عمارت کے سامنے مارچ کیا، امریکی قومی فٹبال ٹیم کے منیجر بروس ارینا نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو افسوسناک قرار دیا۔ نوبل انعام یافتہ کولمبیا کے صدر جوان مینوئل سانتوس نے ٹرمپ کے اقدامات کی مذمت کی۔ اسپین کے وزیراعظم ماریانو راخوی اور میکسیکو کے صدر انریکا پنیانیتو نے وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کے مقابلے میں اتحاد پر زور دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں جہاں امریکی اور دیگر مسلم ممالک کے عوام احتجاج کر رہے ہیں وہاں امریکا اور ایران کے درمیان نئی محاذآرائی پیدا ہو گئی ہے۔ سابق صدر اوباما کی انتظامیہ اور یورپی یونین نے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا آغاز کیا تھا جسے صدر ٹرمپ نے ختم کر دیا ہے۔ اب امریکا اور ایران کے درمیان محاذآرائی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں میں چین، متحدہ عرب امارات اور لبنان کی کمپنیاں شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر دہشتگردی کی مسلسل حمایت کا الزام بھی لگایا ہے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو امریکا، خطے اور امریکا کے اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پابندیوں کا شکار کمپنیوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس اور ایک ٹوئیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران آگ سے کھیل رہا ہے، وہ اوباما کا نرم رویہ خاطر میں نہیں لایا، اسے معلوم ہونا چاہیے میں اوباما سے مختلف ہوں، ایران سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی سمیت تمام آپشن کھلے ہیں، وہ بیلسٹک میزائل تجربات روک دے ورنہ سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اقتصادی پابندیوں سمیت ہر امریکی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے نئی امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناتجربہ کار شخص کی بیکار دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، ہمارے ہتھیار کسی ملک کے خلاف نہیں۔
ادھر ایرانی سائنسدان سامیرا اصغری نے امریکا میں داخلے پر پابندی پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ کر دیا۔ ایران نے انٹرنیشنل ریسلنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے امریکی اتھلیٹس کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکی صدر کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں، نیویارک میں سیکڑوں یمنی اور دیگر مسلم امریکی شہریوں نے پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا، مسلمانوں نے بروکلین سٹی ہال کے سامنے کھلے آسمان تلے نماز ادا کی۔
ٹیکساس میں سالانہ ٹیکساس مسلم ڈے کے موقع پر ہزاروں افراد نے قانون ساز اسمبلی کی عمارت کے سامنے مارچ کیا، امریکی قومی فٹبال ٹیم کے منیجر بروس ارینا نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو افسوسناک قرار دیا۔ نوبل انعام یافتہ کولمبیا کے صدر جوان مینوئل سانتوس نے ٹرمپ کے اقدامات کی مذمت کی۔ اسپین کے وزیراعظم ماریانو راخوی اور میکسیکو کے صدر انریکا پنیانیتو نے وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کے مقابلے میں اتحاد پر زور دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں جہاں امریکی اور دیگر مسلم ممالک کے عوام احتجاج کر رہے ہیں وہاں امریکا اور ایران کے درمیان نئی محاذآرائی پیدا ہو گئی ہے۔ سابق صدر اوباما کی انتظامیہ اور یورپی یونین نے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا آغاز کیا تھا جسے صدر ٹرمپ نے ختم کر دیا ہے۔ اب امریکا اور ایران کے درمیان محاذآرائی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔