غیر قانونی حراست میں موجود شہری کو پیش کرنیکی ہدایت

لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق درخواست پر ہوم سیکریٹری سمیت دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے گئے

جسٹس عقیل احمدعباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر درخواست گزار کے شوہر کوعدالت میں پیش کریں. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے سی آئی ڈی پولیس کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں موجود شہری کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

درخواست گزار مسمات ارم زہرہ نے اپنے شوہر سید باقر علی رضوی کی گمشدگی کے حوالے سے عدالت کو بتایاکہ اس کے شوہر کو رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے 21 دسمبر کو لانڈھی ریلوے اسٹیشن سے اس وقت حراست میںلیا تھا جب وہ لاہور سے واپس آرہے تھے ، سی آئی ڈی کی جانب سے انسپکٹر امیرخان گوندل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایاکہ درخواست گزار کے شوہر کو ایس پی مظہر مشوانی نے ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا تھا اور وہ اسے عدالت میں پیش کرینگے۔

جسٹس عقیل احمدعباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر درخواست گزار کے شوہر کوعدالت میں پیش کریں، فاضل عدالت نے غیر قانونی حراست کے الزام میں آئی جی سندھ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے، درخواست گزار مسمات امیرن نے اپنے شوہر محمد علی کی گمشدگی کے خلاف آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیارکیا گیاہے کہ رینجرز اوراینٹلی جنس ادارے کے اہلکاروں نے اسکے شوہر کو 26دسمبر کواورنگی ٹائون میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا۔

 




تاہم درخواست گزارکے رابطہ کرنے کے باوجود رینجرز اہلکاراورمقامی پولیس اسے نہیں بتارہے کہ اس کے شوہر کو کس الزام میں گرفتار کیاگیا ہے اورنہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیاگیاہے، سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق آئینی درخواست پر ہوم سیکریٹری سمیت دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے، ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے محکمہ تعلیم کے ہیڈ ماسٹر غلام سرور نے اپنے بھائی کی گمشدگی کے خلاف آئینی درخواست میں ہوم سیکریٹری سندھ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ، ایس ایس پی گلشن اقبال، ایس ایچ او عزیز بھٹی پولیس اسٹیشن اور چیئرمین سی پی ایل سی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بھائی عبدالجبار دائیو بدھ 2جنوری کو دفتر جانے کیلیے گاڑی میں اپنے گھر سے نکلے جب وہ اردو یونیورسٹی گلشن اقبال پہنچے تو5مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا،ان افراد نے پولیس کی کیپ پہنی ہوئی تھی۔

وہ عبدالجبار دائیو کو گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے، اس کے بعد علم نہیںکہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ضلع ٹھٹھہ میں اسکول ٹیچرزکی تقرری میں بے قاعدگیوں کے خلاف دائر درخواست پر محکمہ تعلیم اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر ٹھٹھہ کو22جنوری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،مولوی محمداشرف،مولوی سعداللہ اور مولوی ظہیر کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے 15اپریل 2012 کو عربی اور اسلامیات کے اساتذہ کی تقرری کیلیے مقامی اخبار میں اشتہار شا ئع کیا گیا جس کیلیے درخواست گزاروں نے بھی درخواست دی۔

ابتدائی امتحان میں کامیابی کے بعد انٹرویو کیلیے بلایا گیا جس کے بعد انتظار کیلیے کہا گیا، درخواست گزارتمام مطلوبہ شرائط پرپورا اترتے ہیں اور اس تقرری کیلیے مکمل اہلیت و قابلیت رکھتے ہیں مگر معلوم ہوا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر اسکول اساتذہ کی تقرری کی جارہی ہے اور من پسند افراد کو تقرر نامے بانٹے جارہے ہیں، 15خالی اسامیوں پر40سے زائد تقرریاںکی جارہی ہیں،تقرریوں میں میرٹ کو یکسرنظرانداز کرکے اقربا پروری کی جارہی ہے۔
Load Next Story