چترال بارش برفباری اور تودے گرنے سے تباہی
پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں ناگہانی حادثات کی پیشگی اطلاع اور نمٹنے کا لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جاتا
۔ فوٹو: فائل
ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ اس سلسلے میں افسوسناک خبر ہے کہ چترال کے علاقے شیر سال میں ہفتہ کی رات ڈھائی بجے برفانی تودہ گرنے سے 9 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جب کہ 12 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، تباہ ہونے والے 3 مکانات میں رہائش پذیر 14 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے جب کہ ملبے تلے دبے دیگر 11 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ چترال ہی میں ارندو کے مقام پر چترال سکاؤٹس کی چیک پوسٹ پر برفانی تودہ گرنے سے ایک اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوگئے۔
علاوہ ازیں چترال کے مقام برنس گول میں بھی برف کا تودہ دو گھروں پر آگرا، گھر کے افراد جان بچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن 20 مویشی تودے تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔ چترال میں حالیہ برفباری نے 20 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، کاروبار زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے۔ علاقے میں 3 سے 4 فٹ برف پڑی ہے جس کی وجہ سے راستے بند ہونے کے باعث زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، امدادی ٹیمیں پیدل ہی جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کرتی رہیں ۔
بلاشبہ قدرتی حادثات کو روکا نہیں جاسکتا لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرکے حادثات کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے، یہ پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں ناگہانی حادثات کی پیشگی اطلاع اور نمٹنے کا لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ بارشیں ہوں، سیلاب یا پھر زلزلہ، عوام کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں حکومتی سطح پر مسائل سے بے اعتناعی کا معاملہ ہے وہیں عوام بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ وادی کریم آباد کے شیر شال گاؤں میں برفانی تودہ گرنے کا خدشہ تھا جس کی بنا پر متعلقہ اداروں نے شیر شال گاؤں کے مکینوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ محفوظ مقام کو نقل مکانی کریں لیکن صرف 7 گھرانوں نے نقل مکانی کی اور جن 3 گھرانوں نے جانے سے انکار کیا، وہی حادثے کا شکار ہوگئے۔
نیز پہاڑی علاقوں میں تودے گرنے کا سلسلہ پورا سال ہی جاری رہتا ہے، صائب ہوگا کہ آبادی بساتے وقت زمینی تناظر کا بھی جائزہ لے لیا جائے، جن علاقوں میں زیادہ لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے وہاں پہاڑیوں سے ہٹ کر آبادی بسائی جائے۔ احتیاطی تدابیر اور پیشگی انتظامات ہی ان حادثات کی شدت کو کم کرسکتی ہیں، حکومتی اور عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں چترال کے مقام برنس گول میں بھی برف کا تودہ دو گھروں پر آگرا، گھر کے افراد جان بچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن 20 مویشی تودے تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔ چترال میں حالیہ برفباری نے 20 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، کاروبار زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے۔ علاقے میں 3 سے 4 فٹ برف پڑی ہے جس کی وجہ سے راستے بند ہونے کے باعث زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، امدادی ٹیمیں پیدل ہی جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کرتی رہیں ۔
بلاشبہ قدرتی حادثات کو روکا نہیں جاسکتا لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرکے حادثات کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے، یہ پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں ناگہانی حادثات کی پیشگی اطلاع اور نمٹنے کا لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ بارشیں ہوں، سیلاب یا پھر زلزلہ، عوام کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں حکومتی سطح پر مسائل سے بے اعتناعی کا معاملہ ہے وہیں عوام بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ وادی کریم آباد کے شیر شال گاؤں میں برفانی تودہ گرنے کا خدشہ تھا جس کی بنا پر متعلقہ اداروں نے شیر شال گاؤں کے مکینوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ محفوظ مقام کو نقل مکانی کریں لیکن صرف 7 گھرانوں نے نقل مکانی کی اور جن 3 گھرانوں نے جانے سے انکار کیا، وہی حادثے کا شکار ہوگئے۔
نیز پہاڑی علاقوں میں تودے گرنے کا سلسلہ پورا سال ہی جاری رہتا ہے، صائب ہوگا کہ آبادی بساتے وقت زمینی تناظر کا بھی جائزہ لے لیا جائے، جن علاقوں میں زیادہ لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے وہاں پہاڑیوں سے ہٹ کر آبادی بسائی جائے۔ احتیاطی تدابیر اور پیشگی انتظامات ہی ان حادثات کی شدت کو کم کرسکتی ہیں، حکومتی اور عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔