امریکا ویتنام کی طرح دم دبا کر بھاگ رہا ہے افغان طالبان
جنرل جون ایلن نے 2014کے بعد افغانستان میں 6 سے 20ہزار امریکی فوجی تعینات رکھنے کی سفارشات پینٹاگون کو بھیج دیں
افغان فورسز کو سیکیورٹی امور کی منتقلی ویت نام سے امریکی فوج کے انخلا جیسا ہی اقدام ہے،افغان طالبان نے اعلانیہ فتح کا اعلان کردیا فوٹو: اے ایف پی/ فائل
افغانستان میں ڈنمارک کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا، ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ ہلمند میں بم دھماکے میں ڈنمارک کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔
ڈنمارک کی حکومت نے ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ آئی این پی کے مطابق صوبہ لغمان میں طالبان نے 6 افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آن لائن کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل جون ایلن نے 2014ء کے بعد افغانستان میں 6ہزار سے 20 ہزار تک امریکی فوجی تعینات رکھنے کی درخواست کی ہے۔ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جارج لٹل نے کہا کہ جنرل جون ایلن کی سفارشات پر عملدرآمد ممکن نہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنرل جون ایلن نے وزیر دفاع لیون پنیٹا کو اپنے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 6 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے خطرات زیادہ ہوںگے جبکہ 10 ہزار فوجی تعینات کرنیسے خطرات کا تناسب درمیانہ جبکہ 20 ہزار فوجی تعینات کرنے سے سیکیورٹی سے متعلق صورتحال قابو میں رہے گی تاہم لیون پنیٹا نے جنرل جون ایلن کوتاحال کوئی یقین دہانی نہیںکرائی۔
آئی این پی کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو 1970 کے عشرے میں ویتنام سے انخلا سے مشابہ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی ا علانیہ فتح قرار دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں امریکی فوج سے افغان فورسز کو سیکیورٹی ذمے داریوں کی منتقلی جنوبی ویت نام سے امریکی فوج کے انخلا جیسا ہی اقدام ہے۔ امریکی فوج نے ویت نام کی فوج سے ہزیمت اٹھانے کے بعد اس کو خالی کر دیا تھا اور 1975 میں وہاں کمیونسٹ فاتح ٹھہرے تھے۔ طالبان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی ویت نام کی طرح افغانستان سے بھی دم دبا کر بھاگنا چاہتے ہیں۔
ڈنمارک کی حکومت نے ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ آئی این پی کے مطابق صوبہ لغمان میں طالبان نے 6 افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آن لائن کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل جون ایلن نے 2014ء کے بعد افغانستان میں 6ہزار سے 20 ہزار تک امریکی فوجی تعینات رکھنے کی درخواست کی ہے۔ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جارج لٹل نے کہا کہ جنرل جون ایلن کی سفارشات پر عملدرآمد ممکن نہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنرل جون ایلن نے وزیر دفاع لیون پنیٹا کو اپنے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 6 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے خطرات زیادہ ہوںگے جبکہ 10 ہزار فوجی تعینات کرنیسے خطرات کا تناسب درمیانہ جبکہ 20 ہزار فوجی تعینات کرنے سے سیکیورٹی سے متعلق صورتحال قابو میں رہے گی تاہم لیون پنیٹا نے جنرل جون ایلن کوتاحال کوئی یقین دہانی نہیںکرائی۔
آئی این پی کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو 1970 کے عشرے میں ویتنام سے انخلا سے مشابہ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی ا علانیہ فتح قرار دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں امریکی فوج سے افغان فورسز کو سیکیورٹی ذمے داریوں کی منتقلی جنوبی ویت نام سے امریکی فوج کے انخلا جیسا ہی اقدام ہے۔ امریکی فوج نے ویت نام کی فوج سے ہزیمت اٹھانے کے بعد اس کو خالی کر دیا تھا اور 1975 میں وہاں کمیونسٹ فاتح ٹھہرے تھے۔ طالبان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی ویت نام کی طرح افغانستان سے بھی دم دبا کر بھاگنا چاہتے ہیں۔