سی این جی اسٹیشنز کے لیے یکساں ریفنڈ پالیسی کی ہدایت

4فیصدحتمی ٹیکس کے علاوہ دیگرمحصولات ایڈجسٹ وریفنڈ کیے جا سکتے ہیں، ایف ٹی او

کچھ آرٹی اوزمتنازع فیصلے کررہے ہیں،امتیازی سلوک سے گریزکیاجائے،ایف بی آر کو ہدایت۔ فوٹو : فائل

DI KHAN:
وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او)نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو ملک بھر کے تمام سی این جی اسٹیشنز کے لیے یکساں (یونیفارم) ریفنڈ پالیسی اختیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو لیٹر لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سی این این جی اسٹیشنز پر عائد 4فیصد ٹیکس حتمی ٹیکس ہے اور سی این جی اسٹیشنز کی طرف سے فائنل ٹیکس رجیم کے تحت ادا کردہ یہ 4 فیصد ٹیکس قابل ایڈجسٹ نہیں ہے البتہ اس 4 فیصد کے علاوہ سی این جی اسٹیشنز کی طرف سے جو بھی کوئی دوسرا ٹیکس ادا کیا جارہا ہے وہ قابل ایڈجسٹ بھی ہے اور قابل ریفنڈ بھی۔


وفاقی ٹیکس محتسب کی طرف سے لکھے جانے والے لیٹر میں سی این جی سیکٹر کے لیے ریفنڈز کے معاملے پر تفصیلی بیک گراؤنڈ بھی فراہم کیا گیا ہے جس میں سی این جی سیکٹر کی جانب سے لاہور اور پشاور کی ہائی کورٹس میں دائر مقدمات کے فیصلوںکا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ اس سے پہلے بھی سی این جی سیکٹر کی جانب سے موصول ہونے والی مختلف شکایات کے کیسوں میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو سی این جی سیکٹر کے لیے یکساں پالیسی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر ابھی تک ایف بی آر کی طرف سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے اور ایف بی آر کے مختلف ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز)کی طرف سے متنازع فیصلے کیے جارہے ہیں خصوصاً آر ٹی او راولپنڈی اور پشاور کی جانب سے اس قسم کے فیصلے زیادہ کیے جارہے ہیں جبکہ باقی آر ٹی اوز میں سی این جی سیکٹر کے اس طرح کے کیسوں میں ریفنڈز جاری کیے جائیں، یہاں تک کہ آر ٹی او راولپنڈی اور پشاور کی جانب سے بھی بعض کیسوں میں سی این جی اسٹیشنز کو ریفنڈز جاری کیے گئے ہیں لیکن بعض کیسوں میں آر ٹی اوز کی طرف سے کیس فائل کیے جارہے ہیں جو امتیازی اور متنازع سلوک کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سی این جی سیکٹر کو ریفنڈز کے اجرا کے حوالے سے یکساں پالیسی اختیار کی جائے اور ایک ہی نوعیت کے کیسوں کیلیے الگ الگ رویہ اختیار نہ کیا جائے اس سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
Load Next Story