اسٹیل ملز کی پیداوار حکومت نے خود بند کروائی ملازمین
گیس روک کر ادارے کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا،واجبات ونقصانات415ارب پر جاپہنچے
صلاحیتوں کی کمی نہیں،ادارے کی بحالی اب بھی ممکن ہے،پیپلزورکرزیونین، لیز کے فیصلے پر تنقید۔ فوٹو؛ فائل
پاکستان اسٹیل کے ملازمین نے ادارے کو 30 سال لیز پر دینے کے فیصلے پر تنقیدکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کی ذمے داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے، گیس معطل کرکے جان بوجھ کر پیداواربند کرائی گئی جس کی ذمے داری ملازمین پر عائد نہیں کی جا سکتی، خسارے اور واجبات کی وجہ پیداوار کی بندش ہے جو حکومتی فیصلے کا نتیجہ ہے۔
پیپلز ورکرز یونین نے وفاقی وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، نجکاری کمیشن سمیت پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کو جنوری کے آخری ہفتے میںبذریعہ خط پاکستان اسٹیل کی بربادی کا ذمے دار حکومت اور فیصلہ سازوں کو قرار دیتے ہوئے لیز کی مخالفت کی۔
خط میں کہا گیا کہ پاکستان اسٹیل کی بحالی اب بھی ممکن ہے، ملازمین میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، پاکستان اسٹیل کو چلانے کیلیے خام مال،گیس بجلی و دیگر لاجسٹک ضروریات کو پور اکرنا ملازمین نہیں بلکہ حکومت کی ذمے داری ہے جسے پورا کرنے میں حکومت ناکام رہی اورملبہ ملازمین پر ڈالا جارہا ہے، ملازمین نے ذمے داری نبھانے اور متعلقہ وزارت وپالیسی سازوں کی غلط حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہوئے متعدد خطوط روانہ کیے تاہم شنوائی نہ ہوسکی۔
واضح رہے کہ 2013 تک پاکستان اسٹیل کے واجبات اور خسارے کی مجموعی مالیت 200ارب تھی جو 2017تک بڑھ کر 415 ارب ہوگئی، پاسلو ورکرز یونین (سی بی اے) کی جانب سے پٹیشن D-4482/2016 سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی جس پرعدالت نے اسٹے دیتے ہوئے پٹیشنرز کیخلاف کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت کی تھی جب کہ سی بی اے نے 157ایکڑ اراضی 30ملین کے تخمینے کے بجائے 9ملین روپے فی ایکڑ پر منتقل کیے جانے کو بھی غیرقانونی ا قرار دیا، اسی طرح آڈیٹر جنرل کے جولائی تادسمبر 2015آڈٹ میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا تاہم ملوث افراد کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
علاوہ ازیں سی بی اے نے وفاقی حکومت، وزارت صنعت و پیداوار، نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ پر زور دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے SMC 9/2006اور سندھ ہائیکورٹ کے اسٹے آرڈر D-4482/2016 کی روشنی میں پاکستان اسٹیل کی نجکاری کے عمل کو روک دیا جائے۔
پیپلز ورکرز یونین نے وفاقی وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، نجکاری کمیشن سمیت پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کو جنوری کے آخری ہفتے میںبذریعہ خط پاکستان اسٹیل کی بربادی کا ذمے دار حکومت اور فیصلہ سازوں کو قرار دیتے ہوئے لیز کی مخالفت کی۔
خط میں کہا گیا کہ پاکستان اسٹیل کی بحالی اب بھی ممکن ہے، ملازمین میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، پاکستان اسٹیل کو چلانے کیلیے خام مال،گیس بجلی و دیگر لاجسٹک ضروریات کو پور اکرنا ملازمین نہیں بلکہ حکومت کی ذمے داری ہے جسے پورا کرنے میں حکومت ناکام رہی اورملبہ ملازمین پر ڈالا جارہا ہے، ملازمین نے ذمے داری نبھانے اور متعلقہ وزارت وپالیسی سازوں کی غلط حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہوئے متعدد خطوط روانہ کیے تاہم شنوائی نہ ہوسکی۔
واضح رہے کہ 2013 تک پاکستان اسٹیل کے واجبات اور خسارے کی مجموعی مالیت 200ارب تھی جو 2017تک بڑھ کر 415 ارب ہوگئی، پاسلو ورکرز یونین (سی بی اے) کی جانب سے پٹیشن D-4482/2016 سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی جس پرعدالت نے اسٹے دیتے ہوئے پٹیشنرز کیخلاف کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت کی تھی جب کہ سی بی اے نے 157ایکڑ اراضی 30ملین کے تخمینے کے بجائے 9ملین روپے فی ایکڑ پر منتقل کیے جانے کو بھی غیرقانونی ا قرار دیا، اسی طرح آڈیٹر جنرل کے جولائی تادسمبر 2015آڈٹ میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا تاہم ملوث افراد کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
علاوہ ازیں سی بی اے نے وفاقی حکومت، وزارت صنعت و پیداوار، نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ پر زور دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے SMC 9/2006اور سندھ ہائیکورٹ کے اسٹے آرڈر D-4482/2016 کی روشنی میں پاکستان اسٹیل کی نجکاری کے عمل کو روک دیا جائے۔