افغانستان سیکیورٹی فورسز 33 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ
کارروائی ضلع آچن اور راودات میں کی گئیں، دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے اوراسلحہ ذخیرے تباہ کردیے گئے،ترجمان صوبائی گورنر
2016 میں ساڑھے11 ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں 900 بچے بھی شامل ہیں، رپورٹ اقوام متحدہ۔ فوٹو: فائل
افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں سیکیورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائی میں داعش کے 33 جنگجو ہلاک ہوگئے جبکہ دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں اور اسلحہ کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی کا کہنا تھا کہ فورسز نے صوبے کے مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی کارروائیوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں 33 دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائیاں ضلع آچن اور راودات میں کی گئی ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ فوجی کارروائیوں کے دوران داعش کے متعد د ٹھکانوں اور اسلحے کے ذخیر ے کو تباہ کر دیا گیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں 11500 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں 900 سے زائد بچے تھے جب کہ 2016 میں افغانستان میں ہلاک اور زخمی ہونیوالے عام شہریوں کی تعداد میں گزشتہ 8 برس کی نسبت سب سے زیادہ رہی ہے۔ 2016 میں بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد بھی سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ رہی ہے اور یہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے ٹاڈامیچی یاماموٹو کا کہنا تھا کہ ''میں دولت اسلامیہ کی جانب سے عام شہریوں پر سوچے سمجھے اور بلاامتیاز حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں''۔
صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی کا کہنا تھا کہ فورسز نے صوبے کے مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی کارروائیوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں 33 دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائیاں ضلع آچن اور راودات میں کی گئی ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ فوجی کارروائیوں کے دوران داعش کے متعد د ٹھکانوں اور اسلحے کے ذخیر ے کو تباہ کر دیا گیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں 11500 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں 900 سے زائد بچے تھے جب کہ 2016 میں افغانستان میں ہلاک اور زخمی ہونیوالے عام شہریوں کی تعداد میں گزشتہ 8 برس کی نسبت سب سے زیادہ رہی ہے۔ 2016 میں بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد بھی سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ رہی ہے اور یہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے ٹاڈامیچی یاماموٹو کا کہنا تھا کہ ''میں دولت اسلامیہ کی جانب سے عام شہریوں پر سوچے سمجھے اور بلاامتیاز حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں''۔