کوئٹہ کمیشن رپورٹ فیصلہ نہیں
وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیے گئے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیے گئے ۔ فوٹو فائل
MULTAN:
سانحہ کوئٹہ کے ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ حکومتی ، عدالتی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز ہے، اس کمیشن کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کررہے تھے ۔ عدالتی کمیشن کے سپرد یہ ذمے داری تھی کہ وہ سانحہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے اندوہ ناک اور درد انگیز پہلوؤں میں انسانی سلامتی کے ضمن میں انسانی ،ادارہ جاتی اور سیکیورٹی لیپس کے حوالے سے حقائق کا جائزہ لے اور قوم کے سامنے پیش کرے، یہ ملک میں کسی عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے کسی بڑی تاخیر کے بغیر منظر عام پر آنے کا ایک خوش آئند اور رجحان ساز اقدام تھا جسے جوڈیشل ایکٹیوازم کا نام بھی دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جو جاننے کے عوامی حق کی عملی توثیق بھی تھی اور سچ چھپانے کے حکومتی کوششوں پر ضرب کاری بھی۔ کون نہیں جانتا کہ بلوچستان میں یکے بعد دیگرے دہشتگردانہ واقعات کے تسلسل میں سانحہ کوئٹہ کا ایک اور زخم کتنا بہیمانہ اور جگر پاش تھا جس میں 70 افراد جاں بحق ہوئے۔
تاہم سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ پر وفاقی وزیر داخلہ نے تحفظات کا اظہار کیاجس کے بعد ہر کس و ناکس نے ایک دلگداز سانحہ کی ہلاکتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈیا میں رپورٹ کے مندرجات پر رائے زنی کی جب کہ حقیقت میں تحقیقاتی رپورٹ کی تدوین میں معروضیت کے ساتھ ساتھ ، بلاامتیاز احتساب و جوابدہی ، حقائق کی تہ در تہ کھوج اور تفتیش و جستجو کے قانونی استحقاق کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور ضرورت یا توقع اس امر کی تھی کہ ارباب اختیار رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے کیونکہ کہ یہ ایک ہولناک سیکیورٹی لغزش سے متعلق شفاف اور جرات مندانہ حقائق نامہ تھا جس پر گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے وکیل کی معروضات سنیں جب کہ ان کی استدعا پر جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں فل بنچ نے کمیشن کی کارروائی کا تمام ریکارڈ وزارت داخلہ کو دینے کی ہدایت کی ۔ کیس میں وزارت داخلہ کی جانب سے مخدوم علی خان پیش ہوئے اور کہا کہ کمیشن نے سفارشات مرتب کرتے ہوئے شہادتیں مروجہ طریقہ کارکے مطابق نہیں پرکھیں، شہادتوں کے حوالے سے وزارت کا موقف ریکارڈ پر آنا ضروری ہے۔
انھوں نے استدعا کی کہ رپورٹ میں وزیر کے الفاظ تبدیل کر کے اسے وزارت کیا جائے تو عاملہ معاملہ مختلف ہوجائے گا، دوران سماعت غیرسرکاری تنظیم کے نمایندے جبران ناصر نے الزام لگایا کہ کالعدم تنظیموں کو نہ صرف سہولیات دی گئیں بلکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، ہم نے اس حوالے سے تفصیلی مواد جمع کیا ہے جو پیش کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے انھیں موقف اور مواد تحریری طور پر جمع کروانے کی ہدایت کی تاہم فریق بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے اس موقعے پر ابہام بھی دور کیا اور ریمارکس دیے کہ کمیشن کی رپورٹ سفارشات کا درجہ رکھتی ہیں عدالتی حکم نہیں، ان کا جائز شکوہ بھی وکلا نے سنا کہ جو کام تحقیقاتی ادارے کرتے ہیں وہ کمیشن نے کیا، عدلیہ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ہم عوام کے وسیع تر مفاد میں اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کر رہے ہیں، جانتے ہیں پنجاب میں بھی کچھ کالعدم تنظیمیں موجود ہیں، لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے بھی دیکھنا ہوگا۔ عدلیہ نے چشم کشا ریمارکس دیے کہ شواہد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ دیا تو وہ زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ ہم ایک شخص کے ذاتی مفاد کو دیکھیں یا قومی مفاد کو؟
قبل ازیں وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیے گئے۔ جواب میں کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ میں حقائق کو مد نظر نہیں رکھا گیا، وزیر داخلہ، وزارت داخلہ کے خلاف آبزرویشن غیرضروری، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ تاہم حکومت کو سانحہ کوئٹہ کی اندوہ ناکی کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ کمیشن کی رپورٹ کا اجرا ملکی سلامتی اور دہشگردی کو کاؤنٹر کرنے میں ناکامیوں کے ازالہ اور آیندہ بہتر سیکیورٹی میکنزم کو یقینی بنانے کے امکانات کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔ عدلیہ نے فرد اور وزارت کے فرق کے درمیانی لکیر کھینچنے کی ضرورت پر جو زور دیا اسے ذاتی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، دنیا بھر کی عدالتیں اور تحقیقاتی کمیشنوں کے پیش نظر یہی بات ہوتی ہے کہ ہوا کیا ہے اور اب کرنا کیا چاہیے؟
حکام اس نکتے پر توجہ دیں کہ سانحہ کوئٹہ کمیشن نے جن حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور سیکیورٹی لیپس کی طرف جس ذمے دارانہ سچائی کے ساتھ نشاندہی کی ہے کیا کبھی کسی جمہوری دور میںایسی حقیقت افروز رپورٹ کبھی منظر عام پر آئی ہے؟ ارباب اختیاربلوچستان اور دہشتگردی و بدامنی کے حوالے سے صورتحال کی ایک دھندلی سی تصویر بھی چشم تصور میں لے آئیں توآنکھیں کون کے آنسو رلاتی ہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا کہنا تھا کہ اخلاقیات کو قانون سازی سے جکڑا نہیں جا سکتا مگر اخلاقی رویوں اور طرز عمل کے لیے قانون سازی ہوتی ہے، عدالتی فیصلے دل بدل نہیں سکتے ہاں سنگدلوں کو روک سکتے ہیں۔جو لوگ رپورٹ کے لب ولہجے پر معترض ہیں انھیں جاننا چاہیے کہ عدالتی زبان منطقی ہوتی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن نے تو ایک سانحے پر مشتمل داستان غم پیش کی ہے ۔
سانحہ کوئٹہ کے ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ حکومتی ، عدالتی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز ہے، اس کمیشن کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کررہے تھے ۔ عدالتی کمیشن کے سپرد یہ ذمے داری تھی کہ وہ سانحہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے اندوہ ناک اور درد انگیز پہلوؤں میں انسانی سلامتی کے ضمن میں انسانی ،ادارہ جاتی اور سیکیورٹی لیپس کے حوالے سے حقائق کا جائزہ لے اور قوم کے سامنے پیش کرے، یہ ملک میں کسی عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے کسی بڑی تاخیر کے بغیر منظر عام پر آنے کا ایک خوش آئند اور رجحان ساز اقدام تھا جسے جوڈیشل ایکٹیوازم کا نام بھی دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جو جاننے کے عوامی حق کی عملی توثیق بھی تھی اور سچ چھپانے کے حکومتی کوششوں پر ضرب کاری بھی۔ کون نہیں جانتا کہ بلوچستان میں یکے بعد دیگرے دہشتگردانہ واقعات کے تسلسل میں سانحہ کوئٹہ کا ایک اور زخم کتنا بہیمانہ اور جگر پاش تھا جس میں 70 افراد جاں بحق ہوئے۔
تاہم سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ پر وفاقی وزیر داخلہ نے تحفظات کا اظہار کیاجس کے بعد ہر کس و ناکس نے ایک دلگداز سانحہ کی ہلاکتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈیا میں رپورٹ کے مندرجات پر رائے زنی کی جب کہ حقیقت میں تحقیقاتی رپورٹ کی تدوین میں معروضیت کے ساتھ ساتھ ، بلاامتیاز احتساب و جوابدہی ، حقائق کی تہ در تہ کھوج اور تفتیش و جستجو کے قانونی استحقاق کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور ضرورت یا توقع اس امر کی تھی کہ ارباب اختیار رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے کیونکہ کہ یہ ایک ہولناک سیکیورٹی لغزش سے متعلق شفاف اور جرات مندانہ حقائق نامہ تھا جس پر گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے وکیل کی معروضات سنیں جب کہ ان کی استدعا پر جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں فل بنچ نے کمیشن کی کارروائی کا تمام ریکارڈ وزارت داخلہ کو دینے کی ہدایت کی ۔ کیس میں وزارت داخلہ کی جانب سے مخدوم علی خان پیش ہوئے اور کہا کہ کمیشن نے سفارشات مرتب کرتے ہوئے شہادتیں مروجہ طریقہ کارکے مطابق نہیں پرکھیں، شہادتوں کے حوالے سے وزارت کا موقف ریکارڈ پر آنا ضروری ہے۔
انھوں نے استدعا کی کہ رپورٹ میں وزیر کے الفاظ تبدیل کر کے اسے وزارت کیا جائے تو عاملہ معاملہ مختلف ہوجائے گا، دوران سماعت غیرسرکاری تنظیم کے نمایندے جبران ناصر نے الزام لگایا کہ کالعدم تنظیموں کو نہ صرف سہولیات دی گئیں بلکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، ہم نے اس حوالے سے تفصیلی مواد جمع کیا ہے جو پیش کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے انھیں موقف اور مواد تحریری طور پر جمع کروانے کی ہدایت کی تاہم فریق بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے اس موقعے پر ابہام بھی دور کیا اور ریمارکس دیے کہ کمیشن کی رپورٹ سفارشات کا درجہ رکھتی ہیں عدالتی حکم نہیں، ان کا جائز شکوہ بھی وکلا نے سنا کہ جو کام تحقیقاتی ادارے کرتے ہیں وہ کمیشن نے کیا، عدلیہ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ہم عوام کے وسیع تر مفاد میں اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کر رہے ہیں، جانتے ہیں پنجاب میں بھی کچھ کالعدم تنظیمیں موجود ہیں، لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے بھی دیکھنا ہوگا۔ عدلیہ نے چشم کشا ریمارکس دیے کہ شواہد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ دیا تو وہ زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ ہم ایک شخص کے ذاتی مفاد کو دیکھیں یا قومی مفاد کو؟
قبل ازیں وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیے گئے۔ جواب میں کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ میں حقائق کو مد نظر نہیں رکھا گیا، وزیر داخلہ، وزارت داخلہ کے خلاف آبزرویشن غیرضروری، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ تاہم حکومت کو سانحہ کوئٹہ کی اندوہ ناکی کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ کمیشن کی رپورٹ کا اجرا ملکی سلامتی اور دہشگردی کو کاؤنٹر کرنے میں ناکامیوں کے ازالہ اور آیندہ بہتر سیکیورٹی میکنزم کو یقینی بنانے کے امکانات کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔ عدلیہ نے فرد اور وزارت کے فرق کے درمیانی لکیر کھینچنے کی ضرورت پر جو زور دیا اسے ذاتی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، دنیا بھر کی عدالتیں اور تحقیقاتی کمیشنوں کے پیش نظر یہی بات ہوتی ہے کہ ہوا کیا ہے اور اب کرنا کیا چاہیے؟
حکام اس نکتے پر توجہ دیں کہ سانحہ کوئٹہ کمیشن نے جن حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور سیکیورٹی لیپس کی طرف جس ذمے دارانہ سچائی کے ساتھ نشاندہی کی ہے کیا کبھی کسی جمہوری دور میںایسی حقیقت افروز رپورٹ کبھی منظر عام پر آئی ہے؟ ارباب اختیاربلوچستان اور دہشتگردی و بدامنی کے حوالے سے صورتحال کی ایک دھندلی سی تصویر بھی چشم تصور میں لے آئیں توآنکھیں کون کے آنسو رلاتی ہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا کہنا تھا کہ اخلاقیات کو قانون سازی سے جکڑا نہیں جا سکتا مگر اخلاقی رویوں اور طرز عمل کے لیے قانون سازی ہوتی ہے، عدالتی فیصلے دل بدل نہیں سکتے ہاں سنگدلوں کو روک سکتے ہیں۔جو لوگ رپورٹ کے لب ولہجے پر معترض ہیں انھیں جاننا چاہیے کہ عدالتی زبان منطقی ہوتی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن نے تو ایک سانحے پر مشتمل داستان غم پیش کی ہے ۔