دسمبر میں کینو کی برآمدات سے 234 کروڑ ڈالر حاصل پابندیوں کے باعث ایرانی منڈی بند
90 ہزار ٹن کی ایرانی مارکیٹ کو ابھی تک کوئی ایکسپورٹ نہیں ہوئی، 39 ہزار ٹن کینو روس، خلیجی ودیگرممالک کو فروخت
پی ٹی اے کے نفاذ پر18جنوری سے انڈونیشیا کو برآمد شروع ہونے کا امکان، ٹرانسپورٹ ہڑتال سے 36 لاکھ ڈالر نقصان ہوا، وحید احمد فوٹو : فائل
ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے سبب پاکستانی بینکوں نے ایران کیلیے برآمدات سے متعلق خدمات کی فراہمی بند کردی ہے جس سے 90 ہزار ٹن کینو کی منڈی پاکستان کیلیے بند ہوگئی ہے اور صرف کینو کی برآمدات میں 5 کروڑ 40لاکھ ڈالر کمی کا سامنا ہے۔
سال 2010-11 کے دوران پاکستان سے ایران کو 90 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا جو گزشتہ سیزن کم ہوکر 25 ہزار ٹن تک محدود رہی اور رواں سال یکم دسمبر سے کینو کی ایکسپورٹ کے آغاز کے باوجود ایران کو قانونی چینل سے ایک بھی کنسائنمنٹ برآمد نہیں کی گئی۔ چیئرمین آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن وحید احمد کے مطابق دسمبر 2012 کے دوران ملک سے 2.34 کروڑ ڈالر مالیت کا 39 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا۔
گزشتہ ماہ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث کینو کی ایکسپورٹ میں 6 ہزار ٹن کمی کا سامنا کرنا پڑا جس سے ایکسپورٹ کو36 لاکھ ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، رواں سیزن میں کینو کی 18لاکھ ٹن پیداوار متوقع ہے جس میں سے 2 لاکھ ٹن کینو برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ہدف پورا ہونے کی صورت میں ملک کو 12 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا، ملک سے کینو کی برآمدات کا آغاز یکم دسمبر 2012 سے کیا گیا اور مہینے کے اختتام تک 1400 کنٹینرز پر مشتمل 39 ہزار ٹن کینو روس، یوکرائن، دبئی، سعودی عرب، فلپائن، سری لنکا، انگلینڈ، کویت، کینیڈا، ملائیشیا، سنگاپور، ماریشس، بنگلہ دیش، مسقط اور بحرین کو برآمد کیا گیا۔
ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی کینو کی سب سے بڑی مارکیٹ کو اس سال کینو برآمد نہیں کیا گیا، گزشتہ سال ایران کو 25 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا تھا، ایران کی منڈی بند ہونے کے بعد پاکستان کیلیے انڈونیشیا کی مارکیٹ اہمیت اختیار کرگئی ہے، پاک انڈونیشیا ترجیحی تجارت کے معاہدے پر عمل درآمد تاخیر سے پاکستان کیلیے انڈونیشیا کی مارکیٹ کے امکانات بھی کم ہوتے جارہے ہیں، انڈونیشیا کی مارکیٹ میں پاکستانی کینو کو بھاری درآمدی ڈیوٹی کی وجہ سے چین کے کینو سے مسابقت میں دشواری کا سامنا تھا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ترجیحی تجارت کے معاہدے سے ایکسپورٹ بڑھنے کی توقع تھی۔
انڈونیشیا میں پاکستانی سفارتخانے سے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں میں ترجیحی تجارت کے معاہدے پر 18 جنوری سے عمل درآمد ہوگا، انڈونیشیا کی مارکیٹ میں پاکستان سے 40 ہزار ٹن کینو ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔
تاہم ترجیحی تجارت کے معاہدے کے نفاذ میں تاخیر کی وجہ سے اب 18جنوری کو معاہدہ نافذ ہونے کی صورت میں 20 سے 25 ہزار ٹن کینو انڈونیشیا برآمد کیا جا سکتا ہے۔ وحید احمد کے مطابق گزشتہ ماہ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے کینو کی ایکسپورٹ کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ایک ماہ میں کی گئی برآمدات میں ہڑتال کی وجہ سے 6 ہزار ٹن کمی واقع ہوئی۔
سال 2010-11 کے دوران پاکستان سے ایران کو 90 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا جو گزشتہ سیزن کم ہوکر 25 ہزار ٹن تک محدود رہی اور رواں سال یکم دسمبر سے کینو کی ایکسپورٹ کے آغاز کے باوجود ایران کو قانونی چینل سے ایک بھی کنسائنمنٹ برآمد نہیں کی گئی۔ چیئرمین آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن وحید احمد کے مطابق دسمبر 2012 کے دوران ملک سے 2.34 کروڑ ڈالر مالیت کا 39 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا۔
گزشتہ ماہ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث کینو کی ایکسپورٹ میں 6 ہزار ٹن کمی کا سامنا کرنا پڑا جس سے ایکسپورٹ کو36 لاکھ ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، رواں سیزن میں کینو کی 18لاکھ ٹن پیداوار متوقع ہے جس میں سے 2 لاکھ ٹن کینو برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ہدف پورا ہونے کی صورت میں ملک کو 12 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا، ملک سے کینو کی برآمدات کا آغاز یکم دسمبر 2012 سے کیا گیا اور مہینے کے اختتام تک 1400 کنٹینرز پر مشتمل 39 ہزار ٹن کینو روس، یوکرائن، دبئی، سعودی عرب، فلپائن، سری لنکا، انگلینڈ، کویت، کینیڈا، ملائیشیا، سنگاپور، ماریشس، بنگلہ دیش، مسقط اور بحرین کو برآمد کیا گیا۔
ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی کینو کی سب سے بڑی مارکیٹ کو اس سال کینو برآمد نہیں کیا گیا، گزشتہ سال ایران کو 25 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا تھا، ایران کی منڈی بند ہونے کے بعد پاکستان کیلیے انڈونیشیا کی مارکیٹ اہمیت اختیار کرگئی ہے، پاک انڈونیشیا ترجیحی تجارت کے معاہدے پر عمل درآمد تاخیر سے پاکستان کیلیے انڈونیشیا کی مارکیٹ کے امکانات بھی کم ہوتے جارہے ہیں، انڈونیشیا کی مارکیٹ میں پاکستانی کینو کو بھاری درآمدی ڈیوٹی کی وجہ سے چین کے کینو سے مسابقت میں دشواری کا سامنا تھا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ترجیحی تجارت کے معاہدے سے ایکسپورٹ بڑھنے کی توقع تھی۔
انڈونیشیا میں پاکستانی سفارتخانے سے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں میں ترجیحی تجارت کے معاہدے پر 18 جنوری سے عمل درآمد ہوگا، انڈونیشیا کی مارکیٹ میں پاکستان سے 40 ہزار ٹن کینو ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔
تاہم ترجیحی تجارت کے معاہدے کے نفاذ میں تاخیر کی وجہ سے اب 18جنوری کو معاہدہ نافذ ہونے کی صورت میں 20 سے 25 ہزار ٹن کینو انڈونیشیا برآمد کیا جا سکتا ہے۔ وحید احمد کے مطابق گزشتہ ماہ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے کینو کی ایکسپورٹ کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ایک ماہ میں کی گئی برآمدات میں ہڑتال کی وجہ سے 6 ہزار ٹن کمی واقع ہوئی۔