کے ایم سی کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری و دیگر کو طلب کرلیا
ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت تک آگئی ہے، درخواست گزار.
عدالت عالیہ نے دائر درخواستوں کو آئینی درخواست میں تبدیل کردیا. فوٹو: فائل
کے ایم سی کے ہزاروں ملازمین کو2ماہ کی تنخواہوں اور پنشنرز کو پنشن کی عدم اد ائیگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس مشیر عالم کے روبرو دی جانیوالی سجن یونین (سی بی اے ) کے ایم سی اور انسانی حقوق کے وکیل ندیم شیخ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے10جنوری کو چیف سیکریٹری سندھ،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور چیف آفیسر کے ایم سی کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے نوٹسز جاری کردیے گئے۔
سجن یونین (سی بی اے ) کے ایم سی کے مرکزی صدر سید ذوالفقارشاہ اور ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے اپنی درخواستو ں میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت سندھ کے محکمہ فنانس کی کراچی دشمنی کی وجہ سے او زیڈ ٹی کی ماہوار گرانٹ میں10سال سے اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ طے شدہ امور کے تحت کے ایم سی کے ملازمین اور پنشنر ز کی تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی کیلیے50کروڑکی اسپیشل گرانٹ ہر ماہ دینے کی منظوری دی گئی تھی لیکن چار ماہ اسپیشل گرانٹ کے اجرا کے بعد گذشتہ ماہ سے اسپیشل گرانٹ روک لی گئی جس سے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی نہیں کی گئی جسکی وجہ سے مسیحی ملازمین اپنا سب سے بڑا مذہبی تہوار کرسمس اور نئے سال کی تقریبات منانے کے بجائے سڑک پر گذارنے پر مجبور ہوگئے۔
دو ما ہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے بعد ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت تک آگئی ہے اور ملازمین کے بچوں کو اسکولوں اور کرائے کے مکانوں میں مقیم ملازمین کو بے د خلی کے نوٹس دے دیے گئے ہیں لہٰذا ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کوئی مستقل بندوبست کیا جائے تاکہ ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کی جاسکیں، درخواست میں کہا گیاہے کہ کے ایم سی کے تقریبا 32ہزار ملازمین اور 18 ہزار پنشنرز ہیںجو نان جویں کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔
سجن یونین (سی بی اے ) کے ایم سی کے مرکزی صدر سید ذوالفقارشاہ اور ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے اپنی درخواستو ں میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت سندھ کے محکمہ فنانس کی کراچی دشمنی کی وجہ سے او زیڈ ٹی کی ماہوار گرانٹ میں10سال سے اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ طے شدہ امور کے تحت کے ایم سی کے ملازمین اور پنشنر ز کی تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی کیلیے50کروڑکی اسپیشل گرانٹ ہر ماہ دینے کی منظوری دی گئی تھی لیکن چار ماہ اسپیشل گرانٹ کے اجرا کے بعد گذشتہ ماہ سے اسپیشل گرانٹ روک لی گئی جس سے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی نہیں کی گئی جسکی وجہ سے مسیحی ملازمین اپنا سب سے بڑا مذہبی تہوار کرسمس اور نئے سال کی تقریبات منانے کے بجائے سڑک پر گذارنے پر مجبور ہوگئے۔
دو ما ہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے بعد ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت تک آگئی ہے اور ملازمین کے بچوں کو اسکولوں اور کرائے کے مکانوں میں مقیم ملازمین کو بے د خلی کے نوٹس دے دیے گئے ہیں لہٰذا ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کوئی مستقل بندوبست کیا جائے تاکہ ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کی جاسکیں، درخواست میں کہا گیاہے کہ کے ایم سی کے تقریبا 32ہزار ملازمین اور 18 ہزار پنشنرز ہیںجو نان جویں کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔