ناپا کے طلبا نے ’’منٹورامہ‘‘پیش کیاہدایتکار سنیل شنکر تھے
منٹو کی ہجرت کے حوالے سے تحریریں اور غالب کی غزلیں بھی پیش کی گئیں۔
نظرالحسن نے منٹو کا اور مرزاغالب کا کردار عدنان جعفرنے ادا کیا ہے. فوٹو: وکی پیڈیا
نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کے طلبہ و طالبات نے خرم علی شفیق کا لکھا ہوا کھیل ''منٹورامہ''پیش کیا اس کھیل کے ہدایت کار سنیل شنکر تھے۔
ناپا کے اس تھیٹر ڈرامے میںجن فنکاروں نے پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ان میں اکبر اسلام،نظر الحسن، رئوف آفریدی،ثمینہ نظیر،وقار،عدنان جعفر،فواد خان ودیگر شامل تھے، ڈرامے کے پہلے روز نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کے طلبہ و طالبات نے ''منٹواورغالب ایک گفتگو'' کے عنوان سے ایک خصوصی تھیٹر بھی پیش کیا جس میں منٹو کے مضامین اور غالب کے خطوط پر مکالمہ ہوا، منٹو کی ہجرت کے حوالے سے لکھی جانے والی تحریریں اور غالب کی غزلیں بھی پیش کی گئیں۔
اس کھیل میں مرزاغالب کا کردار عدنان جعفرنے ادا کیا جبکہ نظرالحسن نے منٹو کا کردار نبھایا، دونوں فنکار خیالی دنیا میں جاکر ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے جس میں اس افسوس کا بھی اظہار کیا گیاکہ کاش غالب، منٹو کے دور میں زندہ ہوتے اور منٹو، غالب کے دور میں ہوتے، اگر غالب منٹو سے مخاطب ہوتے تو انکا لہجہ اور انداز کیا ہوتا اور منٹو کس طرح انھیںجواب دیتے، کھیل مزید دو روز تک ناپا آڈیوٹوریم میں جاری رہیگا۔
ناپا کے اس تھیٹر ڈرامے میںجن فنکاروں نے پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ان میں اکبر اسلام،نظر الحسن، رئوف آفریدی،ثمینہ نظیر،وقار،عدنان جعفر،فواد خان ودیگر شامل تھے، ڈرامے کے پہلے روز نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کے طلبہ و طالبات نے ''منٹواورغالب ایک گفتگو'' کے عنوان سے ایک خصوصی تھیٹر بھی پیش کیا جس میں منٹو کے مضامین اور غالب کے خطوط پر مکالمہ ہوا، منٹو کی ہجرت کے حوالے سے لکھی جانے والی تحریریں اور غالب کی غزلیں بھی پیش کی گئیں۔
اس کھیل میں مرزاغالب کا کردار عدنان جعفرنے ادا کیا جبکہ نظرالحسن نے منٹو کا کردار نبھایا، دونوں فنکار خیالی دنیا میں جاکر ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے جس میں اس افسوس کا بھی اظہار کیا گیاکہ کاش غالب، منٹو کے دور میں زندہ ہوتے اور منٹو، غالب کے دور میں ہوتے، اگر غالب منٹو سے مخاطب ہوتے تو انکا لہجہ اور انداز کیا ہوتا اور منٹو کس طرح انھیںجواب دیتے، کھیل مزید دو روز تک ناپا آڈیوٹوریم میں جاری رہیگا۔