ذوالفقار مرزا کیخلاف مقدمہ نہیں بنتا ایس ایچ اوکلاکوٹ کاموقف سماعت ملتوی
عبدالرئوف صدیقی کے وکلا نے ان کمنٹس کا جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی اور سماعت 10جنوری کے لیے ملتوی کردی۔
عبدالرئوف صدیقی کے وکلا نے ان کمنٹس کا جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی اور سماعت 10جنوری کے لیے ملتوی کردی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق علی شاہ پر مشتمل سنگل بینچ نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عبدالرئوف صدیقی کی توہین عدالت کی درخواست پولیس کے کمنٹس آنے کے بعد10جنوری کے لیے ملتوی کردی ۔
آئندہ سماعت پر درخواست گزار کے وکیل ایم الیاس خان اور محمد فاروق ایڈووکیٹ دلائل دینگے، جمعہ کو عدالت کے طلب کرنے پرایس ایچ او کلاکوٹ جاوید بلوچ بھی بینچ کے روبرو موجود تھے، انھوں نے بینچ کو بتایاکہ عدالت کے 7دسمبر کے حکم کے مطابق درخواست گزار عبدالرئوف صدیقی کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت قلمبند کیا گیا،تاہم ان کے بیان کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ نہیں بنتا، اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کی ،عبدالرئوف صدیقی کے وکلا نے ان کمنٹس کا جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی اور سماعت 10جنوری کے لیے ملتوی کردی۔
آئندہ سماعت پر درخواست گزار کے وکیل ایم الیاس خان اور محمد فاروق ایڈووکیٹ دلائل دینگے، جمعہ کو عدالت کے طلب کرنے پرایس ایچ او کلاکوٹ جاوید بلوچ بھی بینچ کے روبرو موجود تھے، انھوں نے بینچ کو بتایاکہ عدالت کے 7دسمبر کے حکم کے مطابق درخواست گزار عبدالرئوف صدیقی کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت قلمبند کیا گیا،تاہم ان کے بیان کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ نہیں بنتا، اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کی ،عبدالرئوف صدیقی کے وکلا نے ان کمنٹس کا جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی اور سماعت 10جنوری کے لیے ملتوی کردی۔