جمہوریت آزاد عدلیہ کی وجہ سے قائم ہوئیچیف جسٹس

کوہستان اسیکنڈل کا معاملہ نوٹس میں ہے، کیس ری اوپن کرنے کا حکم دیدیا ،افتخارچوہدری

کوہستان اسیکنڈل کا معاملہ نوٹس میں ہے، کیس ری اوپن کرنے کا حکم دیدیا ،افتخارچوہدری۔ فوٹو: آن لائن/فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ جمہوریت، آزاد عدلیہ اور وکلا کی وجہ سے قائم ہوئی، ابھی کام ختم نہیں ہوا، لوگوں نے عدلیہ سے امیدیں وابستہ کر لیں، ججز اور وکلاء عوام کو انصاف دلانے کیلیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

وہ گزشتہ روز گوجرانوالہ سیشن کورٹ قائد اعظم بار ہال میں وکلا سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بنچ اور بار میں کوئی فرق نہیں، دونوں ستون عدلیہ کی عمارت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک اور سوسائٹی میں جب عدلیہ آزاد ہوتی ہے تو اس کی سپورٹ کیلئے بار بھی ذاتی مفادات کے بغیر اصولوں پر قربانی دینا جانتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ انصاف وکلا کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں اگر کوئی طبقہ ایسا ہے جو قانون کی حکمرانی کا علم بلند رکھے ہوئے ہے اور وہ صرف وکلاء ہیں۔ بلوچستان کیس اور کراچی ٹارگٹ کلنگ کیس میں بھی وکلا کی وجہ سے بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر عدلیہ کی پذیرائی کی جا رہی ہے اور عدالتوں میں بھی مقدمات کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے، ہمارا کام لوگوں کو انصاف پہنچانا ہے۔




چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو جلد سستا انصاف فراہم کرنے کیلیے اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے وکلاء اور جوڈیشری کا وہ مقام نہیں تھا جو آج وکلاء کی جستجو کی وجہ سے بن چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں میں مشکل اور آسان کیس سامنے آتے رہتے ہیں، آئین کی پاسداری نہ چھوڑیں اور بدترین حالات میں بھی وکلاء رول آف لاء کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ گوجرانوالہ بار صوبہ کی سب سے اچھی بار ہے، وکلا کیلیے برج اور پارکنگ کا نظام بہتر بنانے سے اچھے ججز بھی گوجرانوالہ کام کرنے کو پسند کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وکلاء کے تعاون سے 2008ء سے پہلے کے پرانے کیس ختم ہو چکے ہیں، 240 سول کیسز رہ گئے ہیں، یہ سب وکلاء کی بدولت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ عدلیہ اور بار پر مشتمل ہے جس کا فریضہ انصاف فراہم کرنا ہے، یہاں عمدہ انصاف ملے گا تو انصاف کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کوہستان اسیکنڈل کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ نوٹس میں ہے، کیس کو ری اوپن کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story