کراچی ٹریفک حادثات میں تشویشناک اضافہ

یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا کام بھی طویل عرصے سے بغیر منصوبہ بندی کے تحت جاری ہے

، فوٹو؛ ایکسپریس/ محمد عظیم

کراچی میں جمعرات کو یونیورسٹی روڈ پر تیز رفتار کوچ کے بے قابو ہوکر الٹنے سے 3 طالبات سمیت 4 جاں بحق اور 12 افراد کے زخمی ہونے کا افسوسناک حادثہ پیش آیا، عینی شاہدین کے مطابق ٹریفک حادثہ 2 کوچز کے ریس لگانے کے باعث ہوا۔ واضح رہے کہ جمعرات کو سی این جی کی بندش کے باعث نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کم تھی بلکہ بس اسٹاپس پر شہریوں کا غیر معمولی رش تھا۔

مذکورہ حادثہ سراسر ڈرائیور کی جلد بازی کے باعث پیش آیا لیکن اس حقیقت سے صرف نظر بھی ممکن نہیں کہ اس وقت کراچی کی متعدد اہم شاہراہوں پر جاری ترقیاتی کاموں کے دوران انتظامیہ کی نااہلی کے باعث متبادل راستوں کو بہتر نہیں کیا جا سکا ہے اور تمام متبادل راستوں پر بڑے بڑے گڑھے اور ان میں سیوریج کا پانی موجود ہے جو مزید کسی المناک حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔


یونیورسٹی روڈ کی اہمیت اس تناظر میں بھی زیادہ ہے کہ یہاں بیشتر تعلیمی ادارے اور بڑی جامعات، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر، ایکسپو سینٹر اور سرکاری ادارے قائم ہیں جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا گزر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا کام بھی طویل عرصے سے بغیر منصوبہ بندی کے تحت جاری ہے اور شہریوں کا زخمی ہونا معمول بن گیا ہے، 2 فروری کو بھی اردو یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو تیز رفتار بس نے ٹکر مار دی تھی۔

جمعہ کی صبح بھی پٹیل پاڑہ میں ایک طالب علم بس کی ٹکر سے جاں بحق ہوگیا، جب کہ جمعہ کو اردو یونیورسٹی کے طالبعلموں نے یونیورسٹی روڈ پر شدید احتجاجی مظاہرہ کر کے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مذکورہ حادثات کے علاوہ بھی شہر میں ٹریفک حادثات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کی وجوہات میں زیادہ تر قوانین و ضوابط پر پابندی سے گریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چشم پوشی اور ناتجربہ کار ڈرائیوروں کی سنگین غفلت شامل ہیں۔

عمومی مشاہدہ ہے کہ بس کی اوور لوڈنگ اور چھتوں پر مسافر بٹھانے کی پابندی کے باوجود نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہوتی ہے بلکہ ٹریفک پولیس اہلکار ایسی ٹرانسپورٹ کو روک کر پابند کرنے کے بجائے صرف چالان کاٹنے یا 'کمائی' کے بعد بس کو اسی حالت میں آگے بڑھا دیتے ہیں۔ ٹریفک حادثات کی شرح کم کرنے کے لیے سڑکوں کی مرمت، گاڑیوں کی فٹنس اور قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
Load Next Story