اسلام کے نام پر غریبوں سے چندہ لیکر سیاست نہیں کرنے دینگے نواز شریف

شیخ الاسلام کا راستہ انتشار کا راستہ ہے،ایم کیوایم اورق لیگ کے حامی اپنی قیادت سے نظریہ پوچھیں،یہ بے اصولی کی سیاست ہے

عام انتخابات قطعاً ملتوی نہیں ہونگے، بشیربلور کی شہادت پردکھی ہوں، غلام بلور اور شہید کے صاحبزادوں سے تعزیت کے بعدگفتگو۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
مسلم لیگ(ن)کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ق) کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ زرداری کے ساتھ ہیں یا شیخ الاسلام کے ایجنڈے کے ساتھ متفق ہیں۔

اس منافقت پر ایم کیوایم کے ووٹروں اور مسلم لیگ(ق)کے سپورٹروں، اگرکچھ باقی رہ گئے ہیں، کو سوچنا چاہیے، چوہدری پرویزالہی نائب وزیراعظم ہونے کے باوجود شیخ الاسلام کے لانگ مارچ کی حمایت کس کے خلاف کررہے ہیں؟ ۔کیا یہ لوگ اپنے خلاف لانگ مارچ کی حمایت کررہے ہیں؟ عام انتخابات قطعاً ملتوی نہیں ہوں گے چند ہزارلوگوںکی جرأت نہیںکہ وہ 18 کروڑ عوام سے ان کا حق چھین لیں۔ شیخ الاسلام کا راستہ انتشار کا راستہ ہے، ہم غریب لوگوں سے اسلام کے نام پر چندہ اکٹھاکرکے اسے سیاست کیلئے استعمال نہیں ہونے دیںگے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو بلور ہائوس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

میاں نواز شریف اے این پی کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی تعزیت کیلیے بلور ہائوس آئے جہاں انھوں نے بشیربلور کے بڑے بھائی وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمدبلور اور بشیر بلور کے صاحبزادوں ہارون بلور اور عثمان بلور سے تعزیت کی اور مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین، مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل انجینئر اقبال ظفر جھگڑا، صوبائی صدر پیر صابر شاہ، جنرل سیکریٹری رحمت سلام خٹک، نائب صدر افضل پنیالہ، ناصر موسیٰ زئی، حاجی افضل، یوتھ ونگ کے صوبائی صدر میاں راشد کاکاخیل، سردار اعظم، عبدالستار خلیل، محمد عمران، اریش کمار، ایم پی اے جاوید عباسی، خادم علی یوسفزئی، حاجی سردار مہمند، فقیر محمد سمیت دیگر لیگی رہنماء بھی موجود تھے۔

تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ بشیر احمد بلور کی شہادت پر وہ بہت دکھی ہیں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے وہ دعاگو ہیںکہ اللہ بشیربلور کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان پر رحم کرے۔ انھوں نے کہاکہ امن وامان کے مسئلہ کے حل کیلیے سب کو مل بیٹھ کر اس بارے غور و خوض کرنا چاہیے اور سنجیدگی سے اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے سیاسی قیادت مل بیٹھ کر اس ایشو پر بحث کرے اور اس حوالہ سے سکیورٹی اداروںکو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ طاہر القادری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ وہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ اپنی موٹر سائیکلیں، چوڑیاں اور زیور بیچ کر چندہ میں دیں۔




انھوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر غریب لوگوں سے موٹر سائیکلیں، زیور اور گھروںکو فروخت کرکے پیسے لینا اور پھر ان پیسوںکو اپنے سیاسی جلسہ، لانگ مارچ اور سیاست پر خرچ کرنا قابل افسوس فعل ہے، کونسا مذہب یا اسلام ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے، میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم خود کو خادم الاسلام کہلوانے سے بھی خوف کھاتے ہیںکیونکہ ہم گناہ گار ہیں جبکہ علامہ طاہرالقادری نے خودکوشیخ الاسلام کے خطاب سے نوازا ہے ۔یہ کہاںکا دستورہے؟۔ انھوںنے کہا کہ کئی سالوںکی تبلیغ اور لیکچر دینے کا اگر یہ نتیجہ نکلنا تھا تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ غریب لوگوں سے چندہ اکٹھاکرکے اسے سیاست پر لگادیاجائے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں اس قسم کی سیاست قبول نہیں اور ایسی سیاست چلنے بھی نہیں دیں گے، یہ انتشارکا راستہ ہے اور یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت ہو رہا ہے، ایم کیو ایم کی جانب سے تحریک منہاج القرآن کے لانگ مارچ کی حمایت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ ایم کیوایم کے نظریہ کا پتہ نہیں چلتا اسی طرح مسلم لیگ(ق) کے نظریہ کی بھی سمجھ نہیںآتی کہ وہ کس کے خلاف لانگ مارچ کررہے ہیں؟۔ انھوں نے کہا کہ ان جماعتوں کے وفاقی کابینہ میں وزیر بیٹھے ہیں اور وہ حکومت کے خلاف شیخ الاسلام کے لانگ مارچ کی حمایت بھی کررہی ہیں اس بے اصولی کی سیاست کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منزل۔

انھوں نے کہاکہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ق) کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ زرداری کے ساتھ ہیں یا شیخ الاسلام کا ساتھ دے رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس منافقت پر ایم کیوایم کے ووٹروں اور مسلم لیگ(ق)کے سپورٹروں، اگرکچھ باقی رہ گئے ہیں، کوسوچنا چاہیے مسلم لیگ(ق)کے پرویزالٰہی نائب وزیراعظم ہونے کے باوجود شیخ الاسلام کے لانگ مارچ کی حمایت کس کے خلاف کررہے ہیں؟ کیا یہ لوگ اپنے خلاف لانگ مارچ کی حمایت کررہے ہیں؟ عام انتخابات کے التوا کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میںمیاں نوازشریف نے واضح کیا کہ قطعاً انتخابات ملتوی نہیں ہوں گے۔

Recommended Stories

Load Next Story