فاٹا اصلاحاتی پیکیج جلد جاری کیا جائے

میڈیا میں بھی فاٹا اصلاحات پر شدومد سے بحث و مباحثہ جاری ہے

فاٹا اصلاحات پر جلد عملدرآمد کے لیے قبائلی عوام سمیت فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹرز اس بات کے منتظر ہیں کہ جلد اصلاحات کا اعلان کیا جائے۔ اس ضمن میں میڈیا اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے فاٹا اصلاحات پیکیج میں تاخیر کی قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ کابینہ کے آیندہ اجلاس میں اصلاحاتی پیکیج پیش کیا جائے گا۔

ادھر وفاقی حکومت کی طرف سے یہ اعلان بھی مستحسن ہے کہ فاٹا عوام کو بااختیار بنانے کے لیے اتفاق رائے کی کوششیں جاری ہیں تاہم فاٹا ایشو کا تصفیہ ناگزیر ہے کیونکہ پی ٹی آئی سمیت باجوڑ اتحاد اور علاقے کے منتخب اراکین پارلیمنٹ کا اصرار ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف فاٹا اصلاحات کو عملی جامہ پہنائیں۔ اے این پی سے بھی تعاون حاصل کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران کا کہنا ہے کہ فاٹا میں کوئی تنظیم نہیں اور نہ ہی جنرل سیکریٹری عہدہ کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے مگر دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ مرکزی سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو اس عہدہ کے لیے اعلامیہ جاری کرنے کا اختیار ہے۔


میڈیا میں بھی فاٹا اصلاحات پر شدومد سے بحث و مباحثہ جاری ہے اس لیے باجوڑ اتحاد سمیت قبائلی عوام اور سیاسی جماعتوں کے مابین کثیر جہتی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی سٹیک ہولڈرز اور عمائدین و اکابرین اضطراب کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، فاٹا اصلاحات پر مختلف سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے کو مکالمہ اور خیر سگالی کے جذبہ سے حل کرنا ضروری ہے، فاٹا کا معاملہ حکمرانوں کے تاریخی تساہل اور بے عملی کا مظہر ہے، پاکستان کے دفاع اور اس کی سلامتی اور ترقی کے لیے فاٹا کے عوام کو مین اسٹریم میں لانا وقت کا تقاضہ ہے۔

دریں اثنا نیشنل ایکشن پلان کی عملدرآمد کمیٹی کا تیسرا اجلاس جمعرات کو کمیٹی کے کنوینر اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصرخان جنجوعہ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی اور صوبائی اعلیٰ حکام سمیت ڈی جی ایم او، آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سینئر نمایندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

ناصرخان جنجوعہ نے استقبالیہ خطاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نتیجے میں ملک میں سیکیورٹی حالات میں ہونے والی مجموعی بہتری کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے حصول کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں افغان مہاجرین کی پرامن واپسی، فاٹا اصلاحات کے حوالے سے انھوں نے حکومتی فیصلوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فاٹا میں اصلاحات کے سلسلے میں تمام فریقین کے مابین ہم آہنگی سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

 
Load Next Story