پی ایس ایل کو سٹے بازی اسکینڈل کا دھچکا
ممبئی کرکٹ بکیز کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے
. فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو سٹے بازی کے اسکینڈل سے دھچکا لگا ہے جس کے نتیجے میں دو نوجوان کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کو سٹے بازوں سے رابطہ کرنے پر معطل کرکے دبئی سے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق دبئی کے اسٹیڈیم کے قریب ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں گمنام سٹے بازوں سے ان کھلاڑیوں نے بات چیت کی جب کہ ملاقات ہنوز تحقیق طلب ہے کہ بات چیت کا کیا نتیجہ نکلا تاہم یہ اطلاع پاکستان سمیت دنیائے کرکٹ کے لاکھوں شائقین اور پاکستان کرکٹ بورڈ حکام کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں کیونکہ لیگ میچز کے افتتاح اور شاندار تقریب کے دوسرے ہی دن فکسنگ کے اسکینڈل نے بکیز کی شاطرانہ واردات اور سٹے بازی ، کے عالمی نیٹ ورک کا پینڈورا بکس کھول دیا ہے۔
ابھی پاکستانی شائقین انگلینڈ میں ہمارے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر لگنے والے میچ فکسنگ کے الزامات اور عدالت سے سزا کو بھولے نہیں تھے کہ دبئی میں جاری پی ایس ایل کے دوسرے سیشن کو سٹے بازوں نے اپنا ہدف بنالیا۔ واضح رہے پی ایس ایل کا فائنل طے شدہ شیڈول کے مطابق لاہور میں کھیلا جائے گا۔
پی ایس ایل کے میچز میں شائقین کی دلچسپی دیدنی ہے جب کہ پاکستان کرکٹ کے لیے یہ عالمی کرکٹ سے جڑے رہنے اور پاکستان کو حتی الامکان سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے محفوظ ترین کرکٹ وینیو بنانے کی کوششوں کی ایک امید افزا عملی کڑی ہے۔
بلاشبہ الزام و اعتراف کی سچائی تک کھلاڑیوں کا بے ہنگم میڈیا ٹرائل مناسب نہیں، سب کو تحقیقات کا انتظار کرناچاہیے، شرجیل اور خالد کو صفائی کا موقع ملنے کی یقین دہانی بورڈ حکام کے ذرایع نے کردی ہے، ہمارے دبئی میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ ایک کرکٹ دھماکا ہے۔
ادھر دبئی میچز کے باعث دنیائے کرکٹ کے کروڑوں شائقین کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن چکا ہے، پی سی بی نے واقعے کی مزید تفصیلات اگرچہ نہیں بتائیں مگر ذرایع کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑی بعض بکیزسے ملاقاتیں کرتے رہے اور اس کا اعتراف بھی کر لیا ہے، اس حوالے سے مکمل ثبوت ملنے پر ان کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے عبوری طور پر معطل کر دیا گیا، بورڈ کے مطابق پاکستان سپر لیگ کو کرپٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ایک انٹرنیشنل سنڈیکیٹ کے خلاف تحقیقات میں ان دونوں کرکٹرز کے نام سامنے آنے پر یہ قدم اٹھایا گیا۔
چیئرمین پی ایس ایل نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، دونوں کھلاڑیوں کو چارج شیٹ کی کاپی دے دی ہے۔ اسلام آباد یونائٹیڈ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متبادل کھلاڑیوں کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ دوسری جانب ذرایع کا کہنا ہے کہ 10کھلاڑیوں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
چیئرمین شہر یارخان نے کہا کہ میں کرپشن کے خلاف لڑائی میں تمام کھلاڑیوں کو ان کی ذمے داریاں یاد دلانا چاہوں گا، اگر ان سے کوئی مشکوک شخص رابطہ کرے تو اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ان پر لازم ہے کہ فوراً اس کی رپورٹ کریں۔ ابھی اس بات کی تحقیق بھی لازمی ہے کہ کھلاڑیوں کو سٹے بازوں سے ہوشیار رہنے کا کوئی سیشن بلایا گیا تھا کہ نہیں؟ کیا دبئی میں ملوث سٹے بازوں کی گرفتاری کا کوئی امکان ہے۔
اسلام آباد یونائٹیڈ کے ترجمان نے کہا کہ ہم صورتحال پر سخت مایوس مگر قوانین توڑنے یا گائیڈ لائن کی خلاف ورزی پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ شرجیل پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ،25 ون ڈے اور 15 ٹوئنٹی 20 میچز کھیل چکے، وہ دورۂ آسٹریلیا کے اسکواڈ میں بھی شامل اور وہیں ٹیسٹ ڈیبیو بھی کیا تھا، خالد نے 5 ون ڈے اور 13 ٹی ٹوئنٹی میں گرین شرٹ زیب تن کی، وہ آخری بار گزشتہ برس ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی20 سیریز کے دوران ایکشن میں نظر آئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کا زہر کرکٹ سمیت ان کھیلوں میں بھی سرائیت کرگیا ہے جن کے کھلاڑیوں اور انتظامی سربراہوں کے بارے کسی کے وہم و گمان میں نہیں آسکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی رشوت، سٹے بازی ، میچ یا اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوسکتے ہیں، ممبئی کرکٹ بکیز کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے، 2010 ء سے بکیز کی شرارتیں جاری ہیں جب کہ بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ 2015ء میں سٹے بازوں کے بارے میں ایک سنسنی خیز جامع رپورٹ کے ذریعے کرکٹ کی دنیا کو بھی تہہ وبالا کرچکا تھا۔
انگلینڈ، بھارت اور مختلف ملکوں کے اسپورٹس اداروں میں کرپشن کے مظاہر خورد برد، غبن ، بڑے پیمانے پر مالیاتی جعلسازی اور عالمی ٹورنامنٹس میں مالی ہیر پھیرکی شکل میں رپورٹ ہوئے ہیں ۔کیا جنوبی افریقہ کے مایہ ناز کرکٹ کپتان ہنسی کرونئے کے بارے میں کسی کو یقین تھا کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث ہوسکتا ہے،اسی طرح دنیا کے لاتعداد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر فیفا کی سلطنت میں کرپشن پر سر پیٹے رہ گئے۔
بلاشبہ اسپورٹس میں گلیمر کو کھیل کی اخلاقیات اور ضوابط کی شکست کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔کھلاڑی اپنے ملکوں کے سفیر ہوتے ہیں، ان سے بین الاقوامیت اور خیرسگالی کا نئی نسل کو درس ملتا ہے۔خدارا ! سٹے باز کھیل بگاڑنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے چاہئیں۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو سٹے بازی کے اسکینڈل سے دھچکا لگا ہے جس کے نتیجے میں دو نوجوان کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کو سٹے بازوں سے رابطہ کرنے پر معطل کرکے دبئی سے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق دبئی کے اسٹیڈیم کے قریب ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں گمنام سٹے بازوں سے ان کھلاڑیوں نے بات چیت کی جب کہ ملاقات ہنوز تحقیق طلب ہے کہ بات چیت کا کیا نتیجہ نکلا تاہم یہ اطلاع پاکستان سمیت دنیائے کرکٹ کے لاکھوں شائقین اور پاکستان کرکٹ بورڈ حکام کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں کیونکہ لیگ میچز کے افتتاح اور شاندار تقریب کے دوسرے ہی دن فکسنگ کے اسکینڈل نے بکیز کی شاطرانہ واردات اور سٹے بازی ، کے عالمی نیٹ ورک کا پینڈورا بکس کھول دیا ہے۔
ابھی پاکستانی شائقین انگلینڈ میں ہمارے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر لگنے والے میچ فکسنگ کے الزامات اور عدالت سے سزا کو بھولے نہیں تھے کہ دبئی میں جاری پی ایس ایل کے دوسرے سیشن کو سٹے بازوں نے اپنا ہدف بنالیا۔ واضح رہے پی ایس ایل کا فائنل طے شدہ شیڈول کے مطابق لاہور میں کھیلا جائے گا۔
پی ایس ایل کے میچز میں شائقین کی دلچسپی دیدنی ہے جب کہ پاکستان کرکٹ کے لیے یہ عالمی کرکٹ سے جڑے رہنے اور پاکستان کو حتی الامکان سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے محفوظ ترین کرکٹ وینیو بنانے کی کوششوں کی ایک امید افزا عملی کڑی ہے۔
بلاشبہ الزام و اعتراف کی سچائی تک کھلاڑیوں کا بے ہنگم میڈیا ٹرائل مناسب نہیں، سب کو تحقیقات کا انتظار کرناچاہیے، شرجیل اور خالد کو صفائی کا موقع ملنے کی یقین دہانی بورڈ حکام کے ذرایع نے کردی ہے، ہمارے دبئی میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ ایک کرکٹ دھماکا ہے۔
ادھر دبئی میچز کے باعث دنیائے کرکٹ کے کروڑوں شائقین کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن چکا ہے، پی سی بی نے واقعے کی مزید تفصیلات اگرچہ نہیں بتائیں مگر ذرایع کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑی بعض بکیزسے ملاقاتیں کرتے رہے اور اس کا اعتراف بھی کر لیا ہے، اس حوالے سے مکمل ثبوت ملنے پر ان کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے عبوری طور پر معطل کر دیا گیا، بورڈ کے مطابق پاکستان سپر لیگ کو کرپٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ایک انٹرنیشنل سنڈیکیٹ کے خلاف تحقیقات میں ان دونوں کرکٹرز کے نام سامنے آنے پر یہ قدم اٹھایا گیا۔
چیئرمین پی ایس ایل نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، دونوں کھلاڑیوں کو چارج شیٹ کی کاپی دے دی ہے۔ اسلام آباد یونائٹیڈ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متبادل کھلاڑیوں کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ دوسری جانب ذرایع کا کہنا ہے کہ 10کھلاڑیوں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
چیئرمین شہر یارخان نے کہا کہ میں کرپشن کے خلاف لڑائی میں تمام کھلاڑیوں کو ان کی ذمے داریاں یاد دلانا چاہوں گا، اگر ان سے کوئی مشکوک شخص رابطہ کرے تو اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ان پر لازم ہے کہ فوراً اس کی رپورٹ کریں۔ ابھی اس بات کی تحقیق بھی لازمی ہے کہ کھلاڑیوں کو سٹے بازوں سے ہوشیار رہنے کا کوئی سیشن بلایا گیا تھا کہ نہیں؟ کیا دبئی میں ملوث سٹے بازوں کی گرفتاری کا کوئی امکان ہے۔
اسلام آباد یونائٹیڈ کے ترجمان نے کہا کہ ہم صورتحال پر سخت مایوس مگر قوانین توڑنے یا گائیڈ لائن کی خلاف ورزی پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ شرجیل پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ،25 ون ڈے اور 15 ٹوئنٹی 20 میچز کھیل چکے، وہ دورۂ آسٹریلیا کے اسکواڈ میں بھی شامل اور وہیں ٹیسٹ ڈیبیو بھی کیا تھا، خالد نے 5 ون ڈے اور 13 ٹی ٹوئنٹی میں گرین شرٹ زیب تن کی، وہ آخری بار گزشتہ برس ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی20 سیریز کے دوران ایکشن میں نظر آئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کا زہر کرکٹ سمیت ان کھیلوں میں بھی سرائیت کرگیا ہے جن کے کھلاڑیوں اور انتظامی سربراہوں کے بارے کسی کے وہم و گمان میں نہیں آسکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی رشوت، سٹے بازی ، میچ یا اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوسکتے ہیں، ممبئی کرکٹ بکیز کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے، 2010 ء سے بکیز کی شرارتیں جاری ہیں جب کہ بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ 2015ء میں سٹے بازوں کے بارے میں ایک سنسنی خیز جامع رپورٹ کے ذریعے کرکٹ کی دنیا کو بھی تہہ وبالا کرچکا تھا۔
انگلینڈ، بھارت اور مختلف ملکوں کے اسپورٹس اداروں میں کرپشن کے مظاہر خورد برد، غبن ، بڑے پیمانے پر مالیاتی جعلسازی اور عالمی ٹورنامنٹس میں مالی ہیر پھیرکی شکل میں رپورٹ ہوئے ہیں ۔کیا جنوبی افریقہ کے مایہ ناز کرکٹ کپتان ہنسی کرونئے کے بارے میں کسی کو یقین تھا کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث ہوسکتا ہے،اسی طرح دنیا کے لاتعداد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر فیفا کی سلطنت میں کرپشن پر سر پیٹے رہ گئے۔
بلاشبہ اسپورٹس میں گلیمر کو کھیل کی اخلاقیات اور ضوابط کی شکست کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔کھلاڑی اپنے ملکوں کے سفیر ہوتے ہیں، ان سے بین الاقوامیت اور خیرسگالی کا نئی نسل کو درس ملتا ہے۔خدارا ! سٹے باز کھیل بگاڑنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے چاہئیں۔