امریکی صدر کو عدلیہ کے ہاتھوں پھر ہزیمت کا سامنا
امریکی تاریخ نے پہلی بار یہ منظر دیکھا ہے کہ امریکا کا صدر اور عدلیہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں
، فوٹو: اے ایف پی
لاہور:
سات مسلم ممالک کے شہریوں کی آمد پر پابندی کا صدارتی حکم نامہ جاری کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عدلیہ کے درمیان شروع ہونے والی کشاکش میں روزبروز شدت آتی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا صدارتی حکم نامہ ہی متنازعہ ٹھہرا اور انھیں چہارسو شدید مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا، وہ اس وقت چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
ایک جانب وہ شدید عوامی ردعمل اور احتجاج سے نبردآزما ہیں تو دوسری جانب انھیں اپنی صدارتی حکم نامے کی معطلی کے عدالتی فیصلے سے نمٹنا پڑ رہا ہے، تیسری جانب کچھ امریکی ریاستیں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف کھلم کھلا عدم تعاون کا علم اٹھائے عدالتوں میں جا پہنچی ہیں اور عدالتیں بھی مرکزی حکومت کے خلاف ان ریاستوں کے حق میں فیصلے سنا رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو عدالتوں میں پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب اپیل کورٹ نے متفقہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ امریکی تاریخ نے پہلی بار یہ منظر دیکھا ہے کہ امریکا کا صدر اور عدلیہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں اور صدر عدلیہ کا حکم بلاچون و چرا ماننے کے بجائے اس پر تنقید کے نشتر لگا رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے حسب معمول اپیل کورٹ کے فیصلے کو بھی شرمناک اور سیاسی قرار دیا ہے، انھوں نے اپنے ٹویٹ میں ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے، اب عدالت میں ملاقات ہو گی۔
اپیل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ممکنہ طور پر یہ مقدمہ اب امریکی عدالت عظمیٰ میں پیش کیا جائے گا۔ ٹرمپ صدارتی حکم نامے کو نیویارک کی ایک عدالت اور سیٹل کے ڈسٹرکٹ جج جیمز رابرٹ نے معطل کر دیا تھا۔ چند روز پیشتر امریکی سینٹرل کمانڈ کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ جج جیمز رابرٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یقین نہیں آتا کہ ایک جج نے ملک کو خطرے میں ڈالا ہے اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمے داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔
عدالتی حکم نامے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ تارکین وطن کے خلاف محاذآرائی پر تلے ہوئے ہیں اور کسی بھی طرح عدالت کے سامنے سرنگوں ہونے کے لیے آمادہ نہیں، وہ ہر صورت اپنی پالیسیوں پر مکمل نفاذ چاہتے ہیں۔ ادھر امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ فورس نے جنوبی کیلی فورنیا میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر چھاپہ مار آپریشن کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ عراقی باشندوں پر عائد سفری پابندی ختم کر دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ اور پالیسیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کا دور حکومت متنازعہ خیز پالیسیاں لیے داخلی اور خارجی سطح پر مخالفت کی نذر ہو جائے گا۔
سات مسلم ممالک کے شہریوں کی آمد پر پابندی کا صدارتی حکم نامہ جاری کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عدلیہ کے درمیان شروع ہونے والی کشاکش میں روزبروز شدت آتی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا صدارتی حکم نامہ ہی متنازعہ ٹھہرا اور انھیں چہارسو شدید مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا، وہ اس وقت چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
ایک جانب وہ شدید عوامی ردعمل اور احتجاج سے نبردآزما ہیں تو دوسری جانب انھیں اپنی صدارتی حکم نامے کی معطلی کے عدالتی فیصلے سے نمٹنا پڑ رہا ہے، تیسری جانب کچھ امریکی ریاستیں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف کھلم کھلا عدم تعاون کا علم اٹھائے عدالتوں میں جا پہنچی ہیں اور عدالتیں بھی مرکزی حکومت کے خلاف ان ریاستوں کے حق میں فیصلے سنا رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو عدالتوں میں پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب اپیل کورٹ نے متفقہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ امریکی تاریخ نے پہلی بار یہ منظر دیکھا ہے کہ امریکا کا صدر اور عدلیہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں اور صدر عدلیہ کا حکم بلاچون و چرا ماننے کے بجائے اس پر تنقید کے نشتر لگا رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے حسب معمول اپیل کورٹ کے فیصلے کو بھی شرمناک اور سیاسی قرار دیا ہے، انھوں نے اپنے ٹویٹ میں ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے، اب عدالت میں ملاقات ہو گی۔
اپیل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ممکنہ طور پر یہ مقدمہ اب امریکی عدالت عظمیٰ میں پیش کیا جائے گا۔ ٹرمپ صدارتی حکم نامے کو نیویارک کی ایک عدالت اور سیٹل کے ڈسٹرکٹ جج جیمز رابرٹ نے معطل کر دیا تھا۔ چند روز پیشتر امریکی سینٹرل کمانڈ کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ جج جیمز رابرٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یقین نہیں آتا کہ ایک جج نے ملک کو خطرے میں ڈالا ہے اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمے داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔
عدالتی حکم نامے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ تارکین وطن کے خلاف محاذآرائی پر تلے ہوئے ہیں اور کسی بھی طرح عدالت کے سامنے سرنگوں ہونے کے لیے آمادہ نہیں، وہ ہر صورت اپنی پالیسیوں پر مکمل نفاذ چاہتے ہیں۔ ادھر امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ فورس نے جنوبی کیلی فورنیا میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر چھاپہ مار آپریشن کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ عراقی باشندوں پر عائد سفری پابندی ختم کر دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ اور پالیسیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کا دور حکومت متنازعہ خیز پالیسیاں لیے داخلی اور خارجی سطح پر مخالفت کی نذر ہو جائے گا۔