پی ایس ایل فکسنگ الزامات پر سابق کرکٹرز بھی رنجیدہ
ایونٹ میں شریک متعدد کوچز، پلیئرز اور آفیشلز متنازع ہیں، محسن خان
وزیراعظم کو کرکٹ بورڈ کا سرپرست نہیں ہونا چاہیے، میانداد۔ فوٹو: فائل
GARDEZ:
پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل نے سابق کرکٹرز کو بھی رنجیدہ کردیا۔
پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے دوران کھلاڑیوں کے بکیز سے روابط اور معطل کیے جانے پرسابق کرکٹرز بھی رنجیدہ ہوگئے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ پاکستان میں غلط کاموں کیلیے دماغ کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے، بورڈ نے دونوں کرکٹرز کوپی ایس ایل میں بھیجا ہی کیوں تھا، ملوث کھلاڑیوں کوسخت سے سخت سزادی جائے۔
سابق کپتان نے کہاکہ وزیراعظم کوکرکٹ بورڈکا سرپرست نہیں ہونا چاہیے، آئی سی سی سے پیسہ ملتاہے اور بورڈ حکام مزے کررہے ہیں، جنھوں نے کرکٹ کوسب کچھ دیا،ان کے گھروں میں چولہے بند ہیں۔
دوسری جانب محسن خان نے کہا کہ اگر شرجیل خان اور خالد لطیف نے جرم کیا ہے تو دونوں کے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کردینی چاہیے،انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں ٹیموں کے متعدد کوچز، پلیئرز اور دوسرے آفیشلز متنازع ہیں، ساری منیجمنٹ سزا یافتہ ہے، ماضی میں کرکٹرز کو فکسنگ پر سزائیں دی ہوتیں تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔
ادھر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فکسنگ سے متعلق سن کر بہت تکلیف ہو رہی ہے،ان کا پینڈو پن سامنے آ گیا ہے، پیسے کی خاطر انھوں نے خود کو بیچ دیا، معاملے سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ ہم کس کلچر کا حصہ اور پیسے کیلیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
سابق کپتان محمد یوسف نے کہاکہ کھلاڑیوں کیخلا ف کارروائی تب ہونا چاہیے تھی، اگر انھوں نے جوا کھیلا ہو، اس طرح تو کوئی بھی کسی سے مل سکتا ہے، ہوٹل میں 1500کمروں کی گنجائش ہے،کسی کے ماتھے پر بکی ہونے کی مہر نہیں لگی ہوتی، دونوں کھلاڑیوں کیخلاف اتنی تیزی سے ایکشن لینا تعجب کی بات ہے ، نجم سیٹھی اس معاملے میں جلدی کرگئے۔
پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل نے سابق کرکٹرز کو بھی رنجیدہ کردیا۔
پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے دوران کھلاڑیوں کے بکیز سے روابط اور معطل کیے جانے پرسابق کرکٹرز بھی رنجیدہ ہوگئے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ پاکستان میں غلط کاموں کیلیے دماغ کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے، بورڈ نے دونوں کرکٹرز کوپی ایس ایل میں بھیجا ہی کیوں تھا، ملوث کھلاڑیوں کوسخت سے سخت سزادی جائے۔
سابق کپتان نے کہاکہ وزیراعظم کوکرکٹ بورڈکا سرپرست نہیں ہونا چاہیے، آئی سی سی سے پیسہ ملتاہے اور بورڈ حکام مزے کررہے ہیں، جنھوں نے کرکٹ کوسب کچھ دیا،ان کے گھروں میں چولہے بند ہیں۔
دوسری جانب محسن خان نے کہا کہ اگر شرجیل خان اور خالد لطیف نے جرم کیا ہے تو دونوں کے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کردینی چاہیے،انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں ٹیموں کے متعدد کوچز، پلیئرز اور دوسرے آفیشلز متنازع ہیں، ساری منیجمنٹ سزا یافتہ ہے، ماضی میں کرکٹرز کو فکسنگ پر سزائیں دی ہوتیں تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔
ادھر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فکسنگ سے متعلق سن کر بہت تکلیف ہو رہی ہے،ان کا پینڈو پن سامنے آ گیا ہے، پیسے کی خاطر انھوں نے خود کو بیچ دیا، معاملے سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ ہم کس کلچر کا حصہ اور پیسے کیلیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
سابق کپتان محمد یوسف نے کہاکہ کھلاڑیوں کیخلا ف کارروائی تب ہونا چاہیے تھی، اگر انھوں نے جوا کھیلا ہو، اس طرح تو کوئی بھی کسی سے مل سکتا ہے، ہوٹل میں 1500کمروں کی گنجائش ہے،کسی کے ماتھے پر بکی ہونے کی مہر نہیں لگی ہوتی، دونوں کھلاڑیوں کیخلاف اتنی تیزی سے ایکشن لینا تعجب کی بات ہے ، نجم سیٹھی اس معاملے میں جلدی کرگئے۔