بحر ہند اور تجارتی مفادات
پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی بنانی چاہیے
، فوٹو؛ فائل
KARACHI:
وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سینیٹر سرتاج عزیز نے ہفتے کو کراچی میں تین روزہ عالمی میری ٹائم کانفرنس سے خطاب کیا اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر لیکچر دیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔ ان فورمز پر انھوں نے خاصی اہم باتیں کی ہیں' انھوں نے جیو اسٹرٹیجک معاملات' پاک بھارت تعلقات' تنازعہ کشمیر' حفاظ سعید کے ایشو اور چین کے ساتھ تعلقات اور بحرہند کی اہمیت پر خاصی فکر انگیز باتیں کی ہیں۔
حافظ سعید کی نظربندی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس پابندی کا خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا حصہ ہے۔ سینیٹر سرتاج عزیر نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس بنیادی مسئلہ کے حل کے بغیر خطے میں قیام امن کا ایجنڈا نامکمل ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل اور مذاکرات کی بحالی کے لیے بھارت پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ کا اجرا اور دیگر معاملات وزارت خارجہ نہیں بلکہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے۔
مشیر خارجہ نے کہا پاکستان جنگ سے نہیں مذاکرات سے مسائل کا حل چاہتا ہے، پاکستان اپنے پڑوسیوں خصوصاً بھارت، افغانستان، چین، روس و دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران ہمارے چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوگئے ہیں جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے سمندر کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ بحر ہند میں ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب اور عسکری سرگرمیوں سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں تاہم زمین یا سمندر ہر جگہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ ہر صورت کریں گے۔
انھوں نے بتایا قرائن کے مطابق بحر ہند2030ء میں اقتصادی تعاون یا جنگوں کا مرکز ہو گا لہذا یہ ابھی سے طے کرنا ہوگا کہ خطے کے ممالک کو جنگوں کے لیے تیار رہنا ہے یا پھر اقتصادی تعاون کے لیے۔ بلاشبہ بحرہند کا خطہ اس وقت تیزی سے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے' خصوصاً سی پیک کی وجہ سے بحرہند میں تجارتی سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی' اس لیے امریکا اور مغربی اقوام اسے اپنے کے لیے ایک چیلنج اور خطرہ سمجھ رہی ہیں' یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس خطے میں تجارتی مفادات زیادہ ہوں۔
وہاں لڑائی اور جنگ کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں' بہر حال پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی بنانی چاہیے اور اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے چاہئیں اور اس کے علاوہ تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے جدید بندر گاہوں اور رابطہ سڑکوں اور ریلوے کے نیٹ ورک کو زیادہ سے زیادہ جدید اور سبک رفتار بنانا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سینیٹر سرتاج عزیز نے ہفتے کو کراچی میں تین روزہ عالمی میری ٹائم کانفرنس سے خطاب کیا اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر لیکچر دیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔ ان فورمز پر انھوں نے خاصی اہم باتیں کی ہیں' انھوں نے جیو اسٹرٹیجک معاملات' پاک بھارت تعلقات' تنازعہ کشمیر' حفاظ سعید کے ایشو اور چین کے ساتھ تعلقات اور بحرہند کی اہمیت پر خاصی فکر انگیز باتیں کی ہیں۔
حافظ سعید کی نظربندی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس پابندی کا خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا حصہ ہے۔ سینیٹر سرتاج عزیر نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس بنیادی مسئلہ کے حل کے بغیر خطے میں قیام امن کا ایجنڈا نامکمل ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل اور مذاکرات کی بحالی کے لیے بھارت پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ کا اجرا اور دیگر معاملات وزارت خارجہ نہیں بلکہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے۔
مشیر خارجہ نے کہا پاکستان جنگ سے نہیں مذاکرات سے مسائل کا حل چاہتا ہے، پاکستان اپنے پڑوسیوں خصوصاً بھارت، افغانستان، چین، روس و دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران ہمارے چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوگئے ہیں جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے سمندر کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ بحر ہند میں ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب اور عسکری سرگرمیوں سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں تاہم زمین یا سمندر ہر جگہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ ہر صورت کریں گے۔
انھوں نے بتایا قرائن کے مطابق بحر ہند2030ء میں اقتصادی تعاون یا جنگوں کا مرکز ہو گا لہذا یہ ابھی سے طے کرنا ہوگا کہ خطے کے ممالک کو جنگوں کے لیے تیار رہنا ہے یا پھر اقتصادی تعاون کے لیے۔ بلاشبہ بحرہند کا خطہ اس وقت تیزی سے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے' خصوصاً سی پیک کی وجہ سے بحرہند میں تجارتی سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی' اس لیے امریکا اور مغربی اقوام اسے اپنے کے لیے ایک چیلنج اور خطرہ سمجھ رہی ہیں' یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس خطے میں تجارتی مفادات زیادہ ہوں۔
وہاں لڑائی اور جنگ کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں' بہر حال پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی بنانی چاہیے اور اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے چاہئیں اور اس کے علاوہ تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے جدید بندر گاہوں اور رابطہ سڑکوں اور ریلوے کے نیٹ ورک کو زیادہ سے زیادہ جدید اور سبک رفتار بنانا چاہیے۔