ملک میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے 12ملین مریض ہیں ماہرین
آغا خان اسپتال میں سیمینار سے خطاب، ضلع وسطی میں ہیپاٹائٹس...
آغا خان اسپتال میں سیمینار سے خطاب، ضلع وسطی میں ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت واک. فوٹو فائل
ماہرین طب نے کہا ہے کہ ملک میں 12ملین افراد میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا وائرس موجود ہے ، اس وائرس کی بروقت تشخیص اور موثر علاج کی مدد سے وائرس کے ذریعے پھیلنے والے ہیپاٹائٹس سے نمٹا جا سکتا ہے، آغاخان یونیورسٹی میںکی جانے والے تحقیق کے مطابق ہیپاٹائٹس C کے 70 فیصد مریضوںکی صحتیابی ممکن ہے، کم عمر مریض جنھیں ہیپاٹائٹس جینو ٹائپ 3 انفیکشن ہو ان کی صحتیابی کے امکانات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر آغا خان یونیورسٹی میں پاکستان سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیزز کے اشتراک سے منعقد کیے جانے والے سیمینار میں اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن کے چیئرمین ڈاکٹر سعید حمید نے بتایا کہ حالیہ قومی جائزوںکے مطابق 12 ملین پاکستانی افراد میں ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرس موجود ہے، انھوں نے زور دیتے ہوئے کہاکوئی بھی شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہوسکتا ہے۔
لہٰذا اس کوجاننا، ٹیسٹ کروانا اور اس کا موزوں علاج کرانا ضروری ہے، اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف کنٹینیوئنگ پروفیشنل ایجوکیشن کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر وسیم جعفری نے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی کی تشخیص باآسانی ممکن ہے اور ادویات کی مدد سے اس کو موثر انداز میں قابوکیا جاسکتا ہے، ادویہ کا باقاعدگی سے استعمال بعد میں ہونے والی پیچیدگیوں مثلاً سریوسز اور جگر کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔
اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر گیسٹرو اینٹیرولوجی ڈاکٹر فیصل وسیم کے مطابق ایسے کیسز میں الٹراساؤنڈ کی مدد سے باقاعدگی سے جگر کا معائنہ کیا جانا چاہیے، اسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شہاب عابدنے تشخیص کی اہمیت پرلیکچر دیا۔
ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر آغا خان یونیورسٹی میں پاکستان سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیزز کے اشتراک سے منعقد کیے جانے والے سیمینار میں اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن کے چیئرمین ڈاکٹر سعید حمید نے بتایا کہ حالیہ قومی جائزوںکے مطابق 12 ملین پاکستانی افراد میں ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرس موجود ہے، انھوں نے زور دیتے ہوئے کہاکوئی بھی شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہوسکتا ہے۔
لہٰذا اس کوجاننا، ٹیسٹ کروانا اور اس کا موزوں علاج کرانا ضروری ہے، اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف کنٹینیوئنگ پروفیشنل ایجوکیشن کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر وسیم جعفری نے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی کی تشخیص باآسانی ممکن ہے اور ادویات کی مدد سے اس کو موثر انداز میں قابوکیا جاسکتا ہے، ادویہ کا باقاعدگی سے استعمال بعد میں ہونے والی پیچیدگیوں مثلاً سریوسز اور جگر کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔
اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر گیسٹرو اینٹیرولوجی ڈاکٹر فیصل وسیم کے مطابق ایسے کیسز میں الٹراساؤنڈ کی مدد سے باقاعدگی سے جگر کا معائنہ کیا جانا چاہیے، اسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شہاب عابدنے تشخیص کی اہمیت پرلیکچر دیا۔