فاٹا کو قومی دھارے میں لایا جائے

فاٹا کے عوام ایک عرصے سے ایف سی آر کے خاتمے اور اپنے جمہوری حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں

: فوٹو: فائل

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج فاٹا کو قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق قومی دھارے میں لانے کی حمایت کرے گی اور علاقے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اتوار کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا اور پورا دن اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں کے ساتھ گزارا، اس موقع پر آرمی چیف نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ کامیابیوں' ترقیاتی کاموں اور بارڈر سیکیورٹی مینجمنٹ کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ علاقے میں پائیدار امن کے لیے سماجی و اقتصادی ترقی اور استحکام لانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔

ان دنوں فاٹا کے حوالے سے یہ بحث سیاسی جماعتوں اور دانشوروں کے پلیٹ فارمز پر پورے شد و مد سے جاری ہے کہ فاٹا کو الگ صوبہ کی حیثیت دی جائے یا پھر اسے خیبرپختونخوا میں شامل کیا جائے۔ فاٹا کی قسمت کا بہرحال فیصلہ تو حکومت نے کرنا ہے اور امید ہے کہ وہ یہاں کی سیاسی جماعتوں اور عوامی نمایندگان سے مشاورت کے بعد یقیناً کسی بہتر نتیجے پر پہنچے گی جس سے فاٹا کے لوگوں کو دیگر علاقوں کی طرح ترقیاتی امور سے مستفیض ہونے کا بھرپور موقع ملے گا۔

فاٹا کے عوام ایک عرصے سے ایف سی آر کے خاتمے اور اپنے جمہوری حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں' گزشتہ چند برسوں سے ملکی، خیبر پختونخوا اور فاٹا کے سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فاٹا میں انگریز دور کے نافذ کالے قوانین کا خاتمہ کر کے اسے خیبر پختونخوا میں شامل کرکے فاٹا کے عوام کو جمہوری اور پاکستان کے آئینی عمل میں شریک کیا جائے۔

7 فروری کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں انتخابی اصلاحات سمیت 33نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا' فاٹا کے عوام کو امید تھی کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے معاملات بھی زیر بحث لائے جائیں گے لیکن ایجنڈے میں فاٹا کے معاملے کی عدم موجودگی پر انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ بہتر ہے حکومت جلد از جلد فاٹا کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق تفویض کرے اس معاملے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی وہ اتنا ہی پیچیدہ اور الجھاؤ کا شکار ہوتا چلا جائے گا' یہ امر خوش آیند ہے کہ فاٹا اصلاحات کو کابینہ کے آیندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔


بہرحال جس طرح کالا باغ ڈیم سیاسی جماعتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ فاٹا کا معاملہ بھی بعض سیاسی جماعتوں کی باہمی کشاکش اور مفادات کی نذر ہوجائے۔ فاٹا میں گزشتہ چند دہائیوں سے جنگجو گروپوں نے اپنے ڈیرے جما رکھے تھے' پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے اس علاقے کو تمام مسلح اور جنگجو گروپوں سے آزاد کر کے یہاں پر حکومت کی رٹ قائم کی ہے۔

اب پاک فوج نے یہاں بے مثال قربانیاں دے کر امن و امان کا قیام یقینی بنا دیا ہے تو وقت آ گیا ہے کہ بلاتاخیر اس علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا جائے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے یہاں انگریز کے قانون کو ختم کرکے اسے پاکستان کے بندوبستی قانون کے تابع لایا جائے ، لینڈ ریفارمز پر توجہ دی جائے' سرمایہ کاروں کو فیکٹریاں اور صنعتی ادارے قائم کرنے کے لیے تمام سہولتیں مہیا کی جائیں اور سرمایہ کاری کے اس عمل کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ یہاں سے بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ہو سکے۔

اسکول' کالجز' اسپتال اور دیگر ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے جائیں تاکہ یہاں کے لوگ بھی پسماندگی اور غلامی کے اندھیرے سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ امن و امان کا قیام صرف فوج ہی کی ذمے داری نہیں سول انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے' پولیس کے اور دیگر انتظامی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ جو امن یہاں قائم ہو چکا ہے اسے مستقل بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔

اب یہ ذمے داری وفاقی حکومت' خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فاٹا کے مستقبل کا معاملہ باہمی رضامندی سے جلد از جلد طے کریں اگر وفاقی حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے چند ایک سیاستدانوں کو خوش کرنے اور ان کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے فاٹا کے معاملے سے کھیلنے کی کوشش کی تو اس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مزید الجھتا چلا جائے گا اور کسی منطقی نتیجے پر پہنچنا مشکل امر ہو جائے گا۔

 
Load Next Story