شریف فیملی کی عدم پیشی پر عدالت برہم 6 اگست کو دوبارہ طلب

شریف فیملی کے خلاف سوا ارب روپے کی کرپشن کے یہ تینوں ریفرنس ری اوپن کیے جائیں

شریف فیملی کے خلاف سوا ارب روپے کی کرپشن کے یہ تینوں ریفرنس ری اوپن کیے جائیں اور تمام ملزمان کو طلب کر کے ان کے خلاف ٹرائل کیا جائے. فائل فوٹو

احتساب عدالت نمبر 4 کے جج چوہدری عبدالحق نے اتفاق فاؤنڈری، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثہ جات کے 2 ریفرنسوں میں شریف فیملی کی طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے 6اگست کو دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کردیے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف،ان کے بھائی عباس شریف ،والدہ شمیم اختر، بیٹوں حمزہ شہباز، حسین نواز، بیٹی مریم نواز سمیت تمام ملزموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اصالتاً یا وکالتاً ہر صورت عدالت پیش ہوں وگرنہ ان کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

جبکہ حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت15ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔ اس ریفرنس میں شریف فیملی کی طرف سے اکرم شیخ ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ صرف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی پیروی کرنے آئے ہیں دیگر ریفرنسوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں جس پر عدالت نے دوسرے دونوں ریفرنسوں میں کسی کے بھی پیش نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شریف فیملی کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب کو بھی حکم دیا کہ وہ بروقت اور مناسب طریقے سے تعمیل یقینی بنائے۔

نیب کی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شریف فیملی کے خلاف سوا ارب روپے کی کرپشن کے یہ تینوں ریفرنس ری اوپن کیے جائیں اور تمام ملزمان کو طلب کر کے ان کے خلاف ٹرائل کیا جائے۔ گزشتہ روز سماعت شروع ہوئی تو اکرم شیخ نے کہا کہ وہ میڈیا میں خبریں سن کر پیش ہوگئے ہیں۔ نیب نے غلط نوٹس جاری کیے ہیں۔ شریف فیملی کے خلاف وعدہ معاف گواہ اسحاق ڈار کو بھی بطور ملزم نوٹس جاری کیا گیا۔ اس پر نیب ہم سے غیر مشروط معافی مانگے اور ہرجانہ ادا کرے، یہ درخواستیں صرف دل کو خوش کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔

یہ کیس 11سال قبل غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے گئے تھے۔ غیر معینہ مدت کے التواء کا مطلب ہے، یہ کیس ڈیڈ ہوچکے ہیں، مردہ بن کر قبر میں جاچکے ہیں۔ نیب اب ان کیسوں سے کیا نکالنا چاہتی ہے؟اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے حکم امتناع بھی جاری کر رکھا ہے اور حکم امتناع کی روشنی میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی، یہ کیس سیاسی انتقام ہیں، شریف فیملی پر بلیک میلنگ کے لیے تلوار لٹکائی گئی ہے، ان کیسوں میں کچھ بھی نہیں اور یہ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ نیب وفاق کے ماتحت ہے، اگر نیب نے درخواست دے بھی دی ہے تو اس پر عدالت کوئی کارروائی نہیں کر سکتی اور نہ ہی ملزمان کو سمن جاری کر سکتی ہے۔


گزشتہ12سال میں عدالت نے کبھی ان کیسوں میں شریف فیملی کو طلب نہیں کیا۔ نیب قانون کے مطابق عدالتیں 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کی پابند ہیں، یہ قانون نواز شریف کے لیے کیوں نہیں ہے؟ التواء کے لیے ہم نے نہیں کہا تھا، درخواستیں ناقابل سماعت ہیں جبکہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب چوہدری ریاض احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے یہ درخواستیں قانون کے مطابق دائر کی ہیں اگر غیر معینہ مدت کے التواء کا مطلب کیسوں کا ڈیڈ ہونا ہے تو وکیل صفائی بتائیں وہ اور شریف فیملی ان کیسوں کو خارج کرانے کے لیے ہائی کورٹ کیوں گئی؟۔

ہائی کورٹ جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریفرنس ڈیڈ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور زیر سماعت ہیں۔ ہائی کورٹ نے صرف وفاق پاکستان کو کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے دوسرے پیرے میں نیب کو یہ درخواستیں دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ نیب اور عدالت کو کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے نہیں روکا گیا جیسے وفاق کو روکا گیا۔ ہائی کورٹ نیب اور ماتحت عدالت کو بھی روک سکتی تھی ہم بھی پٹیشن میں فریق تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا، یہ درخواستیں پہلے بھی دائر کی گئی تھیں، دوبار دائر کردہ ان د رخواستوں میں عدالت کا حکم تھا کہ چئیرمین نیب کے دستخط نہیں ہیں یعنی اگر دستخط ہوتے تو یہ کیس پہلے ہی کھول دیے جاتے۔

اس وقت چئیرمین بھی نہیں تھے اب چئیرمین آچکے ہیں۔ انھوں نے کیس ری اوپن کرنے کے لیے دستخط بھی کر دیے ہیں، اس لیے انھیں ری اوپن کر کے تمام ملزمان کو اصالتاً طلب کیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب وفاق میں شمار نہیں ہوتا، نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ گو سب وفاق میں شمار ہوتے ہیں مگر نیب ایک خود مختار ادارہ ہے، اسی لیے شریف فیملی نے ہائی کورٹ میں وفاق کے علاوہ نیب اور عدالت نیب کو بھی فریق بنایا ہے، ورنہ وہ صرف وفاق کو ہی فریق بناتی، نیب کسی سے احکام نہیں لیتا، اپنے قانون و قواعد کے مطابق کام کرتا ہے، وکیل صفائی اکرم شیخ نے کہا کہ نیب کی درخواستوں کی انھیں کاپی بھی نہیں دی گئی۔

عدالت نے یہ کاپی انھیں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آئندہ تاریخ پر اس درخواست کا شق وار جواب بھی داخل کریں۔ عدالت نے دیگر دونوں ریفرنسوں میں شریف فیملی کے تمام ملزمان کوان درخواستوں کی الگ الگ نقول بھی نوٹسوں کے ساتھ بھیجنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

داخلہ صرف واک تھرو گیٹ سے رکھا گیا تھا تمام خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ عدالت کے باہر ملحقہ سڑکوں پر بھی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز اعلان کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوئے، لیگی کارکن ان کے صبح 8 بجے سے عدالتی کارروائی ختم ہونے تک ان کی آمد کے منتظر رہے۔

Recommended Stories

Load Next Story