متاثرین بلدیہ ٹائون کو4 ماہ بعد بھی امداد نہیں ملی ڈائریکٹر پائلر

4 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین بلدیہ ٹائون کو تاحال امداد نہیں ملی, ڈائریکٹر پائلر کرامت علی.

4 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین بلدیہ ٹائون کو تاحال امداد نہیں ملی, ڈائریکٹر پائلر کرامت علی. فوٹو: اے ایف پی / فائل

ڈائریکٹر پائلر کرامت علی نے کہا ہے کہ4 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین بلدیہ ٹائون کو تاحال امداد نہیں ملی۔

وزیر اعظم سانحہ بلدیہ کے قانونی معاملے میں مداخلت کے بجائے متاثرین کے مسائل حل کریں ،وہ ہفتہ کو سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ، انھوں نے کہا کہ 4 ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک 28 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ، لاشیں ایدھی سردخانے میں پڑی ہیں اور ورثا ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں،انھوں نے کہا کہ ای او بی آئی کی پنشن پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔


سانحہ بلدیہ میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے صرف 142کے پنشن کے کاغذات تیار کیے گئے ان پر لکھ دیا گیا ہے کہ 5سال کے لیے پنشن دی جائے گی ، ہمارا مطالبہ ہے کہ متاثرین کو تاحیات پنشن دی جائے ،انھوں نے مزید کہا کہ سوشل سیکیورٹی نے 760روپے سروائیول پنشن مقرر کی جو انتہائی افسوسناک بات ہے، ورکر فنڈ سے ڈیتھ گرانٹ ملنی تھی وہ بھی ابھی تک نہیں ملی، متاثرین ورکرز ویلفیئر بورڑ کے چکر لگالگا کر تھک گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ریٹائرڈ جج قربان علی علوی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم کیا اس انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کردی جس کی تمام تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی ہیں اس کو عوام کے سامنے لایا جائے اور ہائی کورٹ کا ایک فل بنچ اس سانحہ کی انکوائری کرے ، انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے دورہ چیمبر آف کامرس کراچی کے موقع پر سانحہ بلدیہ کے ملزمان پر دفعہ 302سیکشن لگانے کے معاملہ پر نظرثانی کا حکم دیا۔

ہم وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سانحہ بلدیہ کے قانونی معاملات میں مداخلت کے بجائے متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے حکم صادر فرمائیں ، پولیس کی طرف سے درج شدہ کیس میں مالکان کے خلاف اقدام قتل کی شق اس لیے شامل کی گئی تھی کیونکہ مالکان کے کہنے پر فیکٹری کے ایمرجنسی وارڈ کے دروازے بند کیے گئے تھے، اس معاملے کے کئی شواہد موجود ہیں اور کئی گواہان نے اپنے بیان دیئے ہیں بااثر مالکان کے نمائندے نہ صرف اس کیس میں شامل گواہان کو ہراساں کرکے ان کو خاموش کرنے کی کوشش کررہے ہیں دوسری طرف اس کیس میں سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ اس کیس کی تحقیقات او پراسیکیوشن حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے ۔
Load Next Story