ماموں نے بھانجی کوموبائل فون کا لالچ دے کربچہ اغوا کروایا
پیسے کی ہوس میں بچے کو اغوا کیااب افسوس ہو رہا ہے،ملزم سکندر کا بیان۔
بچہ اغوا کرنے سے منع کیا،بھائی نے زبردستی کی، ملزم وسیم کی ایکسپریس سے گفتگو. فوٹو: فائل
ملزم ماموں نے اپنی بھانجی کو نیا موبائل فون دینے کا لالچ دے کر اپنے ہی رشتہ داروں کا شیر خوار بچہ اغوا کر وایا۔
تفصیلات کے مطابق یکم جنوری کو لیاقت آباد سے ملزم ماموں سکندر الدین نے اپنی بھانجی نویں جماعت کی طالبہ مریم کو موبائل فون کا لالچ دیکر بہنوئی کے بھتیجے فاروق کے شیر خوار بچے سمیر کو اغوا کیا اور بچے کی رہائی کیلیے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا ، ملزم ماموں سکندر الدین نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قائد آباد میں عینک بنانے والی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور 2 ماہ قبل دیگر ملازمین کے ساتھ اسے بھی نکال دیا گیا تھا۔
سکندر نے بتایا کہ اپنے رشتے دار کے شیر خوار بچے کے اغوا کا منصوبہ اس نے ہی بنایا تھا اور اپنی بھانجی کو بچہ اغوا کر کے لانے کو کہا جبکہ تاوان کی رقم کے لیے اپنے بھانجے عمیر کو کہا، ملزم نے بتایا کہ اس نے پیسے کی ہوس میں بچے کو اغوا کیا تھا اور اب اسے افسوس ہو رہا ہے۔
ملزم وسیم الدین نے بتایا کہ اس نے اپنے بھائی سکندر کو کئی بار منع کیا کہ بچہ اغوا نہ کریں لیکن بھائی نے اسے زبردستی یہ کام کرنے کا کہا، ملزم وسیم نے بتایا کہ وہ 2 بچوں کا باپ ہے جبکہ بھائی سکندر کے3 بچے ہیں، خود بچوں والا ہو کر یہ کام کرنے کے لیے دل نہیں مان رہا تھا۔
ملزم عمیر نے ایکسپریس کو بتایا کہ ماموں سکندر بچہ اغوا کرنے کے بعد گلشن اقبال بلاک 5 میں اس کے کار خانے پر آئے اور بتایا کہ انھوں نے مجید سیٹھ کا پوتا اغوا کر لیا ہے اور اب تم مجید سیٹھ کے بیٹے اور بچے کے باپ سے 50لاکھ روپے تاوان کی رقم طلب کرو، ملزم عمیر نے بتایا کہ وہ 3 روز تک مغوی بچے کے والد فاروق سے تاوان کی رقم کے لیے معاملات طے کرتا رہا اور بچے کے والد سے فون پر بات کرنے کے بعد اپنا موبائل فون بند کردیا کرتا تھا جبکہ رات کے اوقات میں مغوی بچے کے والد سے بات کرتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق یکم جنوری کو لیاقت آباد سے ملزم ماموں سکندر الدین نے اپنی بھانجی نویں جماعت کی طالبہ مریم کو موبائل فون کا لالچ دیکر بہنوئی کے بھتیجے فاروق کے شیر خوار بچے سمیر کو اغوا کیا اور بچے کی رہائی کیلیے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا ، ملزم ماموں سکندر الدین نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قائد آباد میں عینک بنانے والی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور 2 ماہ قبل دیگر ملازمین کے ساتھ اسے بھی نکال دیا گیا تھا۔
سکندر نے بتایا کہ اپنے رشتے دار کے شیر خوار بچے کے اغوا کا منصوبہ اس نے ہی بنایا تھا اور اپنی بھانجی کو بچہ اغوا کر کے لانے کو کہا جبکہ تاوان کی رقم کے لیے اپنے بھانجے عمیر کو کہا، ملزم نے بتایا کہ اس نے پیسے کی ہوس میں بچے کو اغوا کیا تھا اور اب اسے افسوس ہو رہا ہے۔
ملزم وسیم الدین نے بتایا کہ اس نے اپنے بھائی سکندر کو کئی بار منع کیا کہ بچہ اغوا نہ کریں لیکن بھائی نے اسے زبردستی یہ کام کرنے کا کہا، ملزم وسیم نے بتایا کہ وہ 2 بچوں کا باپ ہے جبکہ بھائی سکندر کے3 بچے ہیں، خود بچوں والا ہو کر یہ کام کرنے کے لیے دل نہیں مان رہا تھا۔
ملزم عمیر نے ایکسپریس کو بتایا کہ ماموں سکندر بچہ اغوا کرنے کے بعد گلشن اقبال بلاک 5 میں اس کے کار خانے پر آئے اور بتایا کہ انھوں نے مجید سیٹھ کا پوتا اغوا کر لیا ہے اور اب تم مجید سیٹھ کے بیٹے اور بچے کے باپ سے 50لاکھ روپے تاوان کی رقم طلب کرو، ملزم عمیر نے بتایا کہ وہ 3 روز تک مغوی بچے کے والد فاروق سے تاوان کی رقم کے لیے معاملات طے کرتا رہا اور بچے کے والد سے فون پر بات کرنے کے بعد اپنا موبائل فون بند کردیا کرتا تھا جبکہ رات کے اوقات میں مغوی بچے کے والد سے بات کرتا تھا۔