آٹا مہنگا سندھ حکومت گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف متحرک

32 روپے فی کلو آٹا سپلائی نہ کرنے والی ملوں کا گندم کوٹہ معطل کردیا جائے گا ، محکمہ خوراک.

دسمبرمیں4گنا زائدگندم دی ، ملوں نے ذخیرہ کرلی، بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے، ملیں بند ہونے پر بھی طلب پوری کی جاسکتی ہے،3ماہ کی ضروریات کا اسٹاک ہے،حکام فوٹو: فائل

محکمہ خوراک سندھ نے32 روپے فی کلو کے حساب سے آٹا فروخت نہ کرنے والی فلورملوں کے خلاف کریک ڈائون کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور محکمہ خوراک نے کریک ڈائون کی حکمت عملی بھی مرتب کرلی ہے۔

محکمہ خوراک کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کراچی کی فلورملوں کے خلاف کریک ڈائون پیر7 جنوری سے شروع کیا جائے گا جس کے تحت 32 روپے فی کلوگرام کے حساب سے آٹا سپلائی نہ کرنے والی فلورملوں کے گندم کا کوٹہ معطل کردیا جائے گا، محکمہ خوراک کے حکام کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی کی تمام فلورملوں کو بہرصورت 32 روپے فی کلوگرام کے حساب سے آٹا فروخت کرنا پڑے گا اورصوبائی وزارت خوراک ملز مالکان کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔

محکمہ خوراک کے اقدامات پراگر کراچی کی فلورملیں احتجاجاً بندبھی کردی گئیں تو حکومت اندرون سندھ کی فلورملوں کے ذریعے کراچی میں آٹے کی مطلوبہ ضروریات پوری کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔




ذرائع نے بتایا کہ محکمہ خوراک نے گندم لبرل پالیسی کے تحت دسمبر2012 میں فلورملوں کو گندم کی12 لاکھ بوریاں فراہم کیں جو ان ملوں کی پسائی کی استعداد سے 4 گنا زائد ہے لیکن محکمے کی لبرل پالیسی سے فلورملوں نے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گندم کی وسیع پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کی۔

گندم کی ٹریڈنگ کی سرگرمیوں میں ملوث ہوئے اور عوام کو فی کلوگرام آٹا 32 روپے کے بجائے36 روپے میں فراہم کیا، ان حقائق کی نشاندہی کے بعد محکمہ خوراک نے عوامی مفاد میں گندم کی لبرل پالیسی کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے فی فلورمل کیلیے550 بوری یومیہ گندم کا کوٹہ مقرر کیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ محکمہ خوراک سندھ کے پاس گندم کی73 لاکھ بوریوں کے ذخائر موجود ہیں جو آئندہ 3 ماہ میںآٹے کی ضروریات پورا کرنے کے کافی ہیں، واضح رہے کہ کراچی میں قائم 72 فلورملوں میں سے52 ملیں آپریشنل ہیں۔
Load Next Story