بھارت اسٹار وار کے راستے پر
پاکستان کو بھارت کے ساتھ مقابلے کے لیے اب خلائی تحقیق کے میدان میں بھی اترنا ہو گا
بھارت نے ایک ہی راکٹ کے ذریعے104 منصوعی سیارے کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں پہنچا دیے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں بھارتی اسپیس ایجنسی کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے تاریخی کارنامہ قرار دیا ہے، بھارتی خلائی ایجنسی کے اعلان کے مطابق ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ سیٹلائٹ خلا میں پہنچانے کا یہ عالمی ریکارڈ ہے، بھارتی اسپیس ایجنسی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بی جیا کمار کے مطابق جن 104سیٹلائٹس کو زمین کے گرد مدار میں چھوڑا گیا ہے، ان میں سے101 بین الاقوامی صارفین کے تھے، یہ راکٹ بھارت کے جنوبی خلائی مرکز سے چوڑا گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اتر پردیش میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں جہاں انھیں بھارتی سائنسدانوں کی اس کامیابی کی خبر ملی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے خلاء میں چھوڑے جانے والے ایک سو تین چھوٹے سیارچے صرف ایک عشارہ ایک کلوگرام فی کس وزن کے تھے جب کہ راکٹ نے مجموعی طور پر سات سو چودہ کلوگرام کا وزن اٹھا رکھا تھا گویا اس میں کچھ زیادہ وزن کی اشیاء بھی تھیں۔ چھوٹے سیارچوں کو نانوں سیٹلائٹ کا نام دیا گیا ہے۔ راکٹ کی رفتار 27000 میل فی گھنٹہ تھی۔
تمام سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں چھوڑا گیا۔ مذکورہ سیٹلائٹس میں سے کچھ سان فرانسسکو میں قائم امریکی خلائی ایجنسی کے بھی تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جوہری میدان میں ہی نہیں خلائی تحقیق کے میدان میں بھی بھارت کی مدد کر رہا ہے۔ بھارتی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیا کمار کے مطابق بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے۔پاکستان کو بھارت کے ساتھ مقابلے کے لیے اب خلائی تحقیق کے میدان میں بھی اترنا ہو گا اور اپنے راکٹ پروگرام کو مزید وسعت دینا ہو گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی اتر پردیش میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں جہاں انھیں بھارتی سائنسدانوں کی اس کامیابی کی خبر ملی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے خلاء میں چھوڑے جانے والے ایک سو تین چھوٹے سیارچے صرف ایک عشارہ ایک کلوگرام فی کس وزن کے تھے جب کہ راکٹ نے مجموعی طور پر سات سو چودہ کلوگرام کا وزن اٹھا رکھا تھا گویا اس میں کچھ زیادہ وزن کی اشیاء بھی تھیں۔ چھوٹے سیارچوں کو نانوں سیٹلائٹ کا نام دیا گیا ہے۔ راکٹ کی رفتار 27000 میل فی گھنٹہ تھی۔
تمام سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں چھوڑا گیا۔ مذکورہ سیٹلائٹس میں سے کچھ سان فرانسسکو میں قائم امریکی خلائی ایجنسی کے بھی تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جوہری میدان میں ہی نہیں خلائی تحقیق کے میدان میں بھی بھارت کی مدد کر رہا ہے۔ بھارتی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیا کمار کے مطابق بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے۔پاکستان کو بھارت کے ساتھ مقابلے کے لیے اب خلائی تحقیق کے میدان میں بھی اترنا ہو گا اور اپنے راکٹ پروگرام کو مزید وسعت دینا ہو گی۔