نئی دہلی زیادتی کیس متاثرہ لڑکی کی ایک گھنٹے تک تڑپتی رہی
انٹرویوپر بھارتی نیوز چینل کیخلاف مقدمہ، متاثرہ خاندان کی اجازت کے بغیر شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی، پولیس ترجمان
ملزمان کو کل فاسٹ ٹریک عدالت میں پیش کیاجائے گا، ملزمان نے اغوا کیا، تشدد کے بعد کچلنے کی کوشش کی، دوست فوٹو: اے ایف پی
بھارت میں اجتماعی زیادتی اورتشدد کی شکار لڑکی کے دوست نے کہا ہے کہ ایک گھنٹے تک متاثرہ لڑکی تڑپتی رہی وہ دونوں سڑک پر مدد کیلیے چیختے چلاتے رہے لیکن کسی کو ان پر ترس نہ آیا۔
پولیس نے تھانے کی حدود کے تعین میں کافی وقت ضائع کر دیا۔آئی این پی کے مطابق بھارتی ٹی وی چینل کو اپنے پہلے انٹرویو میں لڑکے نے کہاکہ 16 دسمبر کی رات وہ فلم دیکھ رہے تھے جب ملزمان انھیں زبردستی اغوا کر کے بس میں لے گئے۔بدترین تشدد کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے لیکن درندوں کو پھر بھی رحم نہ آیا اورلوہے کی سلاخوں سے انھیں پیٹتے رہے۔باہر پھینکے جانے کے بعد انہیں بس کے نیچے کچلنے کی بھی کوشش کی گئی۔لڑکے نے عوام سے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنے کی اپیل کی۔
آن لائن کے مطابق مظلوم لڑکی کے دوست کا انٹرویو نشر کرنے پر پولیس نے نیوز چینل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے بھارتی پولیس کے ترجمان راجن بھگت کے مطابق بھارتی قانون زیادتی کے شکار فرد یا اس کے خاندان کی اجازت کے بغیر اس کی شناخت ظاہر کرنے کو منع کرتا ہے مذکورہ چینل نے اس قانون کی دفعہ A288 کی خلاف ورزی کی ہے ۔
واقعے کے بعد پہلے انٹرویو میں زیادتی کا شکار طالبہ کے ساتھی نے زی ٹی وی کو 16دسمبر کی رات ہونے والے واقعے کی تفصیلات بتائیں اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ جائے وقوع پر تاخیر سے پہنچی تھی۔ مظلوم لڑکی کے دوست نے بتایا کہ چلتی بس سے سڑک پر برہنہ حالت میں پھینکے جانے کے بعد 25منٹ تک ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔ٹی وی انٹرویو میں متاثرہ شخص کا نام نہیں بتایا گیا ۔
مظلوم لڑکی کے دوست نے کہا کہ پولیس نے انھیں ایمبولینس کی بجائے اپنی وین میں اسپتال پہنچایا جہاں وہ کئی گھنٹوں تک بغیر طبی امداد کے برہنہ حالت میں فرش پر بیٹھا رہا۔ نئی دہلی میں ساکیت کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے 23سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے فرد جرم کاباقاعدہ نوٹس لیا اور مختلف پہلوؤں کے جائزے کے بعدپیر 7 جنوری کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔
پولیس نے تھانے کی حدود کے تعین میں کافی وقت ضائع کر دیا۔آئی این پی کے مطابق بھارتی ٹی وی چینل کو اپنے پہلے انٹرویو میں لڑکے نے کہاکہ 16 دسمبر کی رات وہ فلم دیکھ رہے تھے جب ملزمان انھیں زبردستی اغوا کر کے بس میں لے گئے۔بدترین تشدد کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے لیکن درندوں کو پھر بھی رحم نہ آیا اورلوہے کی سلاخوں سے انھیں پیٹتے رہے۔باہر پھینکے جانے کے بعد انہیں بس کے نیچے کچلنے کی بھی کوشش کی گئی۔لڑکے نے عوام سے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنے کی اپیل کی۔
آن لائن کے مطابق مظلوم لڑکی کے دوست کا انٹرویو نشر کرنے پر پولیس نے نیوز چینل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے بھارتی پولیس کے ترجمان راجن بھگت کے مطابق بھارتی قانون زیادتی کے شکار فرد یا اس کے خاندان کی اجازت کے بغیر اس کی شناخت ظاہر کرنے کو منع کرتا ہے مذکورہ چینل نے اس قانون کی دفعہ A288 کی خلاف ورزی کی ہے ۔
واقعے کے بعد پہلے انٹرویو میں زیادتی کا شکار طالبہ کے ساتھی نے زی ٹی وی کو 16دسمبر کی رات ہونے والے واقعے کی تفصیلات بتائیں اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ جائے وقوع پر تاخیر سے پہنچی تھی۔ مظلوم لڑکی کے دوست نے بتایا کہ چلتی بس سے سڑک پر برہنہ حالت میں پھینکے جانے کے بعد 25منٹ تک ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔ٹی وی انٹرویو میں متاثرہ شخص کا نام نہیں بتایا گیا ۔
مظلوم لڑکی کے دوست نے کہا کہ پولیس نے انھیں ایمبولینس کی بجائے اپنی وین میں اسپتال پہنچایا جہاں وہ کئی گھنٹوں تک بغیر طبی امداد کے برہنہ حالت میں فرش پر بیٹھا رہا۔ نئی دہلی میں ساکیت کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے 23سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے فرد جرم کاباقاعدہ نوٹس لیا اور مختلف پہلوؤں کے جائزے کے بعدپیر 7 جنوری کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔