سلامتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنے کیلیے 10سفارشات فوجی ڈاکٹرائن بھی زیر بحث لانے کا فیصلہ

اجلاس میںایم کیوایم،پی پی(ش)اوربلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کی عدم شرکت،ان سے مشاورت کے بعدسفارشات منظرعام پرآئینگی

سفارشات میں پارلیمنٹ کی قراردادوں،لاپتا افراد کے لواحقین کے تحفظات ونقطہ نظرکوسامنے رکھا گیا، رضاربانی کی بریفنگ۔ فوٹو : فائل

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی ایک سال سے زائدکی کوششوں کے بعد بالآخر لاپتا افراد کے معاملے کو حل کرنے کیلیے 10 سے زائد سفارشات مرتب کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

سفارشات کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے کیا جائیگا، کمیٹی نے ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے باعث فوجی ڈاکٹرائن میںتبدیلی کامعاملہ آئندہ اجلاس میں زیر بحث لانیکا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا خصوصی اجلاس میاںرضاربانی کی زیرصدارت ہوا جس میں مولانا فضل الرحمٰن، اسحاق ڈار، مشاہد حسین سید، میرحاصل خان بزنجو، سردارمہتاب عباسی سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رضا ربانی نے بتایا کہ کمیٹی نے لاپتا افرادکے حوالے سے 10 سے زائد سفارشات تیار کر لی ہیں تاہم انکو فائنل کرتے وقت ایم کیوایم، پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی نمائندہ اجلاس میں موجود نہیں تھا اسلیے انکو ابھی منظرعام پر نہیں لایا جا سکتا تاہم سفارشات کاحتمی مسودہ تیار کرنیکا حکم دیدیا گیا ہے۔




مذکورہ تینوں جماعتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ ہفتے سفارشات میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے لائی جائینگی جس کے بعد انھیں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔ آئی این پی کے مطابق رضا ربانی نے بتایا کہ سفارشات کی تیاری میںپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مختلف اوقات میں پیش ہونیوالی قراردادوں اور لاپتا افراد کے لواحقین کے تحفظات اور نقطہ نظر کو بھی سا منے رکھا گیا ہے، ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے باعث فوجی ڈاکٹرائن میں تبدیلی کے معاملے پرکمیٹی میں گفتگو ہوئی ہے تاہم اسکو آئندہ اجلاس میں زیربحث لایا جائیگا۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کو طورخم بارڈرسے اسلحہ لیجانے کی اجازت سے متعلق حکمنامہ سامنے نہیں آیا اسلیے کمیٹی میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
Load Next Story