بھارت کو پسندیدہ ملک قراردیکر وعدہ پورا کیاجائے انڈو پاک چیمبر
31دسمبر 2012تک ایم ایف این قرار دینے کی یقین دہانی کرائی گئی جس پر عمل نہیں ہوا
انڈو پاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بھارت کو تجارت کیلیے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا وعدہ پورا کرے ۔فوٹو: فائل
بھارت کو تجارت کیلیے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے فیصلے میں تاخیر کے سبب دونوں ملکوں کے مابین تجارت کو نارمل بنانے کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر صنعتیں بھارت کے ساتھ تجارت میں پاکستان کیلیے فائدہ دیکھ رہی ہیں تاہم بلندپیداواری لاگت کی وجہ سے بھارتی مصنوعات سے مقابلہ کرنے سے قاصر صنعتیں بھارت کیلیے پاکستانی منڈی کھولنے کی مخالف ہیں۔
انڈو پاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بھارت کو تجارت کیلیے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا وعدہ پورا کرے پاکستان کی جانب سے اکتوبر 2011میں بھارت کو 31دسمبر 2012 تک ایم ایف این اسٹیٹس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس پر عمل درآمد میں تاخیر سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات نارمل بنانے کیلیے جاری عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت باہمی تجارت کا حجم اس وقت 2.6ارب ڈالر ہے دونوں ملکوں میں تیسرے ملک کے زریعے کی جانیوالی تجارت 3ارب ڈالر سے زائد ہے تجارت کو نارمل بنانے کیلیے اقدامات سے باہمی تجارت کا حجم 6ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر صنعتیں بھارت کے ساتھ تجارت میں پاکستان کیلیے فائدہ دیکھ رہی ہیں تاہم بلندپیداواری لاگت کی وجہ سے بھارتی مصنوعات سے مقابلہ کرنے سے قاصر صنعتیں بھارت کیلیے پاکستانی منڈی کھولنے کی مخالف ہیں۔
انڈو پاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بھارت کو تجارت کیلیے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا وعدہ پورا کرے پاکستان کی جانب سے اکتوبر 2011میں بھارت کو 31دسمبر 2012 تک ایم ایف این اسٹیٹس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس پر عمل درآمد میں تاخیر سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات نارمل بنانے کیلیے جاری عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت باہمی تجارت کا حجم اس وقت 2.6ارب ڈالر ہے دونوں ملکوں میں تیسرے ملک کے زریعے کی جانیوالی تجارت 3ارب ڈالر سے زائد ہے تجارت کو نارمل بنانے کیلیے اقدامات سے باہمی تجارت کا حجم 6ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔