ٹینڈرنگ کےعمل میں بےقاعدگی مہران ہائی وے کاتعمیراتی کام رکنے کا خدشہ
منصوبہ جاپانی ادارے جائیکا کی طرف سے فراہم کردہ فنڈ سے تیار کیا جا رہا ہے.
مستقبل کے منصوبے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، صورتحال کی تمام ذمے داری افسران پر عائد ہوگی، منصوبے کی ٹینڈرنگ اور اس پر عملدرآمد کرانا بلدیہ عظمیٰ کی ذمے داری تھی. فوٹو: وکی پیڈیا
KARACHI:
بلدیہ عظمیٰ میں جاپانی ادارے جائیکا کی طرف سے فراہم کردہ فنڈ سے تیار کی جانے والے مہران ہائی وے میں ٹینڈرنگ کے عمل میں بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں ثابت ہوجانے کی صورت میں جاپان کی طرف سے پاکستان خصوصاً کراچی میں ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے فنڈز سے جاری منصوبے پر کام رک سکتا ہے۔
جبکہ مستقبل کے منصوبے بھی متاثر ہوسکتے ہیں جس کی تمام تر ذمے داری بلدیہ عظمیٰ کے افسران پر عائد ہوگی جنھوں نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو کام دلانے کے لیے پاکستان کی ساکھ ، وقار اور تشخص کو عالمی سطح پر دائو پر لگادیا ہے، باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے مہران ہائی وے کے ٹینڈر جمعہ کو ہونے تھے،60 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے کی تمام تر فنڈنگ جاپانی ادارے جائیکا نے کرنی تھی تاہم منصوبے کی ٹینڈرنگ اور اس پر عملدرآمد کرانا بلدیہ عظمیٰ کی ذمے داری تھی، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس منصوبے کے5ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سلسلے میں31کمپنیوں کو پری کولیفائی کیا گیا جبکہ 29کمپنیوں نے ٹینڈر دستاویزات حاصل کیں، ادارے کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں اپنی من پسند کمپنیوں کام دلانے کی کوشش کی اور یہ ذمے داری ٹھیکیداروں کی ایسوسی ایشن نے سنبھالی تاہم بعض ٹھکیداروں نے اس سلسلے میں کوئی دبائو یا پیشکش قبول کرنے سے انکارکردیا اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر واضح کردیا کہ وہ ہر صورت ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لیں گے، ذرائع نے بتایا کہ جب بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی کہ اس کی طرف سے ''پول'' کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے تو اس نے پیر تک کے لیے ٹینڈر ملتوی کردیے تاکہ جو ٹھیکیدار راضی ہونے میں رکاوٹ بن رہے ہیں ان کو کسی طور پر قائل کیا جاسکے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ صورتحال جاپانی سفارتخانے اور جائیکا کے علم میں آگئی جس نے اس سارے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ اپنے طور پر اس سارے معاملے کی تحقیقات کرارہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اگر اس سلسلے میں آنے والی بے قاعدگیاں اور شکایتوں کی جاپانی سفارتخانے اور جائیکا کو تصدیق ہوگئی تو وہ نہ صرف مہران ہائی وے کے منصوبے پر کام روک سکتی ہے بلکہ جاپان کے مختلف اداروں اور جائیکا کے فنڈنگ سے جو منصوبے جاری ہیں ان پر نہ صرف فنڈنگ روکی جاسکتی ہے بلکہ جو منصوبے مستقبل میں جاپانی حکومت کے تعاون سے شروع ہونے ہیں وہ بھی خطرے میں پڑسکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کرپشن کے حوالے سے جاپانی حکومت قطعی طور پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں سمجھا جاتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس سے پاکستان کا تشخص بھی عالمی سطح پر متاثر ہوسکتا ہے، کرپشن کے حوالے سے جہاں پاکستان کی ساکھ پہلے ہی اتنی اچھی نہیں ایسے ممالک جو کہ ان حالات کے باوجود پاکستان میں فنڈنگ کررہے ہیں وہ اپنا ہاتھ کھینچ لیں گے، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ نے اگر پیر کو ٹینڈرنگ کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو اس کے نتائج نہ صرف یہ اس منصوبے کو متاثر کرنے کا باعث بنیں گے بلکہ پاکستان کے لیے بھی نئی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔
بلدیہ عظمیٰ میں جاپانی ادارے جائیکا کی طرف سے فراہم کردہ فنڈ سے تیار کی جانے والے مہران ہائی وے میں ٹینڈرنگ کے عمل میں بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں ثابت ہوجانے کی صورت میں جاپان کی طرف سے پاکستان خصوصاً کراچی میں ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے فنڈز سے جاری منصوبے پر کام رک سکتا ہے۔
جبکہ مستقبل کے منصوبے بھی متاثر ہوسکتے ہیں جس کی تمام تر ذمے داری بلدیہ عظمیٰ کے افسران پر عائد ہوگی جنھوں نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو کام دلانے کے لیے پاکستان کی ساکھ ، وقار اور تشخص کو عالمی سطح پر دائو پر لگادیا ہے، باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے مہران ہائی وے کے ٹینڈر جمعہ کو ہونے تھے،60 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے کی تمام تر فنڈنگ جاپانی ادارے جائیکا نے کرنی تھی تاہم منصوبے کی ٹینڈرنگ اور اس پر عملدرآمد کرانا بلدیہ عظمیٰ کی ذمے داری تھی، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس منصوبے کے5ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سلسلے میں31کمپنیوں کو پری کولیفائی کیا گیا جبکہ 29کمپنیوں نے ٹینڈر دستاویزات حاصل کیں، ادارے کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں اپنی من پسند کمپنیوں کام دلانے کی کوشش کی اور یہ ذمے داری ٹھیکیداروں کی ایسوسی ایشن نے سنبھالی تاہم بعض ٹھکیداروں نے اس سلسلے میں کوئی دبائو یا پیشکش قبول کرنے سے انکارکردیا اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر واضح کردیا کہ وہ ہر صورت ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لیں گے، ذرائع نے بتایا کہ جب بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی کہ اس کی طرف سے ''پول'' کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے تو اس نے پیر تک کے لیے ٹینڈر ملتوی کردیے تاکہ جو ٹھیکیدار راضی ہونے میں رکاوٹ بن رہے ہیں ان کو کسی طور پر قائل کیا جاسکے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ صورتحال جاپانی سفارتخانے اور جائیکا کے علم میں آگئی جس نے اس سارے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ اپنے طور پر اس سارے معاملے کی تحقیقات کرارہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اگر اس سلسلے میں آنے والی بے قاعدگیاں اور شکایتوں کی جاپانی سفارتخانے اور جائیکا کو تصدیق ہوگئی تو وہ نہ صرف مہران ہائی وے کے منصوبے پر کام روک سکتی ہے بلکہ جاپان کے مختلف اداروں اور جائیکا کے فنڈنگ سے جو منصوبے جاری ہیں ان پر نہ صرف فنڈنگ روکی جاسکتی ہے بلکہ جو منصوبے مستقبل میں جاپانی حکومت کے تعاون سے شروع ہونے ہیں وہ بھی خطرے میں پڑسکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کرپشن کے حوالے سے جاپانی حکومت قطعی طور پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں سمجھا جاتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس سے پاکستان کا تشخص بھی عالمی سطح پر متاثر ہوسکتا ہے، کرپشن کے حوالے سے جہاں پاکستان کی ساکھ پہلے ہی اتنی اچھی نہیں ایسے ممالک جو کہ ان حالات کے باوجود پاکستان میں فنڈنگ کررہے ہیں وہ اپنا ہاتھ کھینچ لیں گے، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ نے اگر پیر کو ٹینڈرنگ کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو اس کے نتائج نہ صرف یہ اس منصوبے کو متاثر کرنے کا باعث بنیں گے بلکہ پاکستان کے لیے بھی نئی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔