قندھار قبائلی جرگے میں خودکش حملہ 10افراد جاں بحق متعد زخمی

طالبان نے ذمے داری قبول کرلی ، عمائدین کی ہلاکت پر قبائل میں شدید غم و غصہ ، امن کی کوششیں جاری رہیں گی، افغان حکام.

قندھار: افغان سیکیورٹی حکام خودکش حملے کی جگہ کا معائنہ کررہے ہیں، اتوار ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی

قندھار میں قبائلی عمائدین کے جرگے میں2 خود کش حملہ آورں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

اتوار کو غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قندھارصوبے کے اسپن بولدک شہر میں ایک خودکش بمبار نے سرکاری کونسل عمارت کے داخلی دروازے پرگارڈز پر فائرنگ کی اور اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ دوسرے خود کش حملہ آور نے گولہ بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو بیرونی دیوار سے ٹکرا دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 گارڈز بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔

خود کش دھماکے میں قبائلی عمائدین کی ہلاکت پر قبائل میں شدید غم و غصہ کی لہر پیدا ہو گئی ہے ۔ افغان اعلیٰ حکام نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔قندھار کی صوبائی حکومت کا کہناہے کہ مرنے والوں میں ایک بچہ، ایک ہیلتھ ویکسینیٹر، کونسل (شوریٰ)کا ایک رکن، ایک دکانداراور ایک ایسا شخص ہلاک ہوگیا ہے جو شناختی کارڈکے حصول کے لیے آیا ہوا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "زخمی ہونے والے تمام افراد شہری ہیں جو کونسل کے ارکان سے اپنے مسائل پر بات چیت کے لیے آئے تھے۔


 



"بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 3شدید زخمیوں کو قندھار شہر کے اسپتال میں علاج کے لیے داخل کردیا گیا ہے۔ دھماکوں کی وجہ سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ ملبے میں دب جانے والے افراد کی تلاش میں 3افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان قاری یوسف احمد نے حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8افراد جن میں زیادہ تر پولیس والے تھے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ صوبائی حکام کا کہناہے کہ دھماکوں میں نہ تو سیکیورٹی فورسز کا کوئی شخص ہلاک ہوا نہ ہی زخمی ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسپن بولدک میں فائرنگ کی آواز کے بعد دو دھماکے سنے گئے۔ سرحدی پولیس سربراہ محمد علی کا کہنا ہے کہ "ہر اتوار کو مقامی شوریٰ ارکان کونسل کی عمارت میں ملاقات کرتے تھے جہاں حملہ ہوا ہے۔"

تقریباً40شہری اجلاس میں قبائلی عمائدین سے اپنے مسائل کے حل یا مدد کے لیے موجود تھے۔ افغانستان میں گزشتہ سب سے بڑا خود کش حملہ خوست میں امریکی فوجی اڈے کے نزدیک 26دسمبر کو ہوا تھاجس میںکم از کم 3 افغانی شہری ہلاک اور 7زخمی ہوئے تھے۔ طالبان نے گزشتہ ہفتے دھمکی دی تھی کہ اگر کسی بھی غیر ملکی فوجیوں کو علاقے میں چھوڑا گیا تو ایک طویل جنگ جاری رہے گی، البتہ امریکی میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے 3ہزار سے 9ہزار فوجیوں کو افغانستان میں رکھا جائے گا۔
Load Next Story