دہلی ریپ کیس بیٹی کا نام ظاہرکردیا جائے والد

میری بیٹی نے کوئی غلط کام نہیں کیا،نام ظاہرکرنے سے خواتین کوحوصلہ ملے گا.

سبھی چیخ رہے ہیں،کوئی یہ نہیں بتاتاکہ تمام ملزمان بہارکے ہیں،راج ٹھاکرے. فوٹو: اے ایف پی

بھارت کے دارالحکومت نئی دلی کی بس میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کا نام ظاہر کیا جا سکتا ہے تاکہ جنسی جرائم کے شکار لوگوں کے لیے وہ امید کا باعث بن سکیں۔

لڑکی کے والد نے برطانیہ کے ایک اخبار سنڈے پیپل سے بات کرتے ہوئے کہاہم چاہتے ہیں کہ اس کا اصلی نام لوگوں کے سامنے آئے۔میری بیٹی نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اس نے اپنی مدافعت میں جان دی ہے۔ مجھے اس پر ناز ہے۔ اس کا نام ظاہر کرنے سے دوسری خواتین کو حوصلہ ملے گا۔انہیں میری بیٹی کے نام سے تقویت ملے گی۔واضح رہے کہ بھارتی قانون سماجی وجوہات کے مدِنظر جنسی زیادتی کے متاثرین کے نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اس سے قبل بھارت کے وزیر مملکت برائے انسانی وسائل ششی تھرور نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ اس لڑکی کا نام ظاہر کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے نام پر ریپ مخالف نیا قانون بنایا جا سکے۔ریپ کے خلاف جہاں مظاہرے جاری ہیں، وہیں بیان بازیاں بھی جاری ہیں۔




اس سے قبل ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بیان دیا تھا کہ ریپ کے واقعات 'انڈیا' میں ہوتے ہیں نہ کہ 'بھارت' میں تاہم بعد میں اعداد و شمار کے پیشِ نظر انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔ادھر ریاست مہاراشٹر اور بطور خاص ممبئی میں متحرک سیاسی تنظیم مہاراشٹر نونرمان سینا یعنی ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے ایک تازہ متنازع بیان دیا ہے۔انھوں نے مراٹھی زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا سبھی ریپ ریپ چِلا رہے ہیں لیکن یہ بات کوئی نہیں کہہ رہا کہ سبھی ریپ کرنے والے بہار کے ہیں۔اس سے قبل انھوں نے ممبئی میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کی ذمہ داری بھی شمالی بھارت کے باشندوں پر ڈالی تھی۔
Load Next Story