مقبوضہ کشمیر شہدائے سوپورکی برسی پر مکمل ہڑتال
’جیل بھرو‘ مہم کادوسرامرحلہ کل شروع ہوگا،بھارتی فوجیوں نےمقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین قتل عام کیا، ٹائم میگزین.
6جنوری 1993 کو بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے بطور انتقام50کشمیریوں کو شہید اورسیکڑوں کوزخمی کردیا تھا. فوٹو: پی پی آئی/ فائل
مقبوضہ کشمیرکے قصبے سوپور میں کشمیریوں کے قتل عام کی 20ویں برسی کے موقع پر اتوار کو مکمل ہڑتال کی گئی ۔
اے پی پی کے مطابق کشمیرمیڈیا سروس نے بتایاکہ ہڑتال کی کال بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے دی تھی ۔تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بندرہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی۔6جنوری 1993 کو بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروںنے سوپور قصبے میںاندھا دھند فائرنگ کر کے 50سے زائد کشمیریوں کو شہید اورسیکڑوں کوزخمی کردیا تھا۔فوجیوں نے یہ کارروائی ایک حملے میں 2فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا انتقام لینے کیلیے کی تھی۔
فوجیوںنے قصبے کی مارکیٹ کو آگ لگادی تھی جس سے 350سے زائد دکانیں اور عمارتیں جل کر خاکستر ہو گئی تھیں۔حریت رہنمائوں شبیر احمد شاہ ، مختار احمد وازہ ، یاسمین راجا اور فردوس احمد شاہ نے الگ الگ بیانات اور تعزیتی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے شہدائے سوپور کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ حریت رہنمائوںنے کہاکہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا ۔
ادھر جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام کشمیری نوجوانوں کی عمر قید کی سزائیں منسوخ کرانے کیلیے 'جیل بھرو' مہم کا دوسرامرحلہ کل شروع ہو گا ۔دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ،سید علی گیلانی ، شبیر احمدشاہ اور محمد فاروق رحمانی نے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمدکے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔این این آئی کے مطابق کشمیری20برس گزرنے کے بعد بھی سانحہ سوپور کی تلخ یادیں بھلا نہیں پا ئے ہیں۔سانحے کے عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس نے ایک مسافر بس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ڈرائیور سمیت15 افراد کو قتل کیا ۔
فوجیوںنے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ بھارتی فوجی4 گھنٹے تک قتل عام کرتے رہے۔ایک اورشخص نے بتایا کہ جلتے ہوئے مکانوں اور دکانوں میں پھنسے لوگ مدد کیلیے پکارتے رہے۔ علاقے کے لوگ تین دن تک جلے ہوئے مکانات اور دکانوں کے ملبے سے لاشیں نکالتے رہے تھے۔ واقعے کے خلاف کئی دن تک زبردست مظاہرے کیے گئے لیکن مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
معروف امریکی ٹائم میگزین نے بھی 18جنوری1993کو اپنی اشاعت میں اس قتل عام کے حوالے لکھا تھا کہ'بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین قتل عام کیااور نہتے لوگوں پر بغیر کسی اشتعال کے اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں'۔میگزین نے اس سانحے کی خبر کو''خون کی اٹھتی ہوئی لہر ''کی سرخی دی تھی ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموںنے بھی سانحے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔
اے پی پی کے مطابق کشمیرمیڈیا سروس نے بتایاکہ ہڑتال کی کال بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے دی تھی ۔تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بندرہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی۔6جنوری 1993 کو بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروںنے سوپور قصبے میںاندھا دھند فائرنگ کر کے 50سے زائد کشمیریوں کو شہید اورسیکڑوں کوزخمی کردیا تھا۔فوجیوں نے یہ کارروائی ایک حملے میں 2فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا انتقام لینے کیلیے کی تھی۔
فوجیوںنے قصبے کی مارکیٹ کو آگ لگادی تھی جس سے 350سے زائد دکانیں اور عمارتیں جل کر خاکستر ہو گئی تھیں۔حریت رہنمائوں شبیر احمد شاہ ، مختار احمد وازہ ، یاسمین راجا اور فردوس احمد شاہ نے الگ الگ بیانات اور تعزیتی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے شہدائے سوپور کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ حریت رہنمائوںنے کہاکہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا ۔
ادھر جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام کشمیری نوجوانوں کی عمر قید کی سزائیں منسوخ کرانے کیلیے 'جیل بھرو' مہم کا دوسرامرحلہ کل شروع ہو گا ۔دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ،سید علی گیلانی ، شبیر احمدشاہ اور محمد فاروق رحمانی نے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمدکے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔این این آئی کے مطابق کشمیری20برس گزرنے کے بعد بھی سانحہ سوپور کی تلخ یادیں بھلا نہیں پا ئے ہیں۔سانحے کے عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس نے ایک مسافر بس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ڈرائیور سمیت15 افراد کو قتل کیا ۔
فوجیوںنے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ بھارتی فوجی4 گھنٹے تک قتل عام کرتے رہے۔ایک اورشخص نے بتایا کہ جلتے ہوئے مکانوں اور دکانوں میں پھنسے لوگ مدد کیلیے پکارتے رہے۔ علاقے کے لوگ تین دن تک جلے ہوئے مکانات اور دکانوں کے ملبے سے لاشیں نکالتے رہے تھے۔ واقعے کے خلاف کئی دن تک زبردست مظاہرے کیے گئے لیکن مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
معروف امریکی ٹائم میگزین نے بھی 18جنوری1993کو اپنی اشاعت میں اس قتل عام کے حوالے لکھا تھا کہ'بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین قتل عام کیااور نہتے لوگوں پر بغیر کسی اشتعال کے اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں'۔میگزین نے اس سانحے کی خبر کو''خون کی اٹھتی ہوئی لہر ''کی سرخی دی تھی ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموںنے بھی سانحے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔