مشترکہ دشمن پر نظر رکھنے کی ضرورت

پاکستان نے لاہور اور سیہون سانحات کے بعد ملک بھر میں کومبنگ آپریشن شروع کیا ہے۔

پاکستان نے لاہور اور سیہون سانحات کے بعد ملک بھر میں کومبنگ آپریشن شروع کیا ہے ۔ فوٹو فائل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف موثر نتائج کے لیے باہمی رابطے بڑھانے کی حالیہ تجویز کا خیرمقدم کیا جب کہ یہ اطلاع بھی آئی ہے کہ پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر ذخیلوال نے پیر کو وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے تفصیلی ملاقات کی جس میں دونوں جانب سے کشیدگی ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا، ملاقات کے بعد جاری بیان میں افغان سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تحفظات اورشکایات کے ازالے کے لیے سازگار ماحول کی توقع ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں دو طرفہ تناؤ کم ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ خطے کا ایک اہم تزویراتی سوال اکثر مبصرین اور عالمی تجزیہ کاروں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے کہ پاکستان میں افغان بیسڈ دہشتگرد بھیج کر انارکی، خانہ جنگی، طالبان کے مسلسل حملوں اور عسکری، انتظامی، سیاسی اور اقتصادی مسائل کا شکار افغانستان آخر کون سا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے تو اپنے داخلی عدم استحکام، عوام کی معاشی بدحالی اور سوشل انڈیکیٹرز کے حوالے سے گرتے ہوئے معاشی گراف پر توجہ دینا چاہیے، اسے ایسا کرنے سے کوئی طاقت روک رہی ہے تو وہ بھارت ہی ہوسکتا ہے جو افغانستان کے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی جعلسازی میں مصروف ہے۔

جنرل باجوہ کی طرف سے پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے امکانی خاتمہ کا اگر پاکستان کی جانب سے خیر مقدم کیا جارہا ہے تو اسے پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور ایسے بلیم گیم سے اجتناب صائب ہوگا جس کا نقصان بہر حال افغان سیاست اور ڈپلومیسی کو پہنچے گا۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے افغان حکومت اور خاص طور پر صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ صاحبان کو اپنے اقدامات ، بیانات اور نیت کے اخلاص کی روشنی میں کوئی حل ڈھوندنا چاہیے، اس ضمن میں عمر زخیوال نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کو 85 مطلوب افغان طالبان ارکان کی فہرست دینے کی تصدیق بھی کی جب کہ بی بی سی کے مطابق افغان وزارت خارجہ کے ایک پریس ریلیز میں پاکستان حکام کی جانب سے مثبت جواب کا ذکر کرتے ہوئے انھیں یقین دلایا گیا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یاد رہے اس سے پہلے پاک فوج نے 4 روز قبل افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیو طلب کر کے ان سے وہاں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ وہ شدت پسند ہیں جن کے بارے میں پیر کوچیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان میڈیا کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے فرار دہشت گرد افغانستان میں روپوش ہیںاور دہشت گردی کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، علاوہ ازیں ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے تحت پاکستانی اور افغان ارکان سے اپنے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بلیم گیم میں نہیں پڑنا چاہتا، ہم پاکستان کی فوج اور سویلین حکومت کے ساتھ ہر سطح پرکام کرنے کے لیے تیارہیں، کشیدگی اورعدم استحکام بالآخر دونوں ممالک کو متاثر کرے گا.


اب سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان میں دہشتگردی کروانے کی کھلی چھوٹ دینے اور ان شدت پسندوں کی خاطر مدارات کرنے میں افغان حکومت کا کوئی عل دخل نہیں تو پاکستان کے اس مطالبے کو مانتے ہوئے جماعت الاحرار سمیت طالبان اور ان کے دیگر دھڑوں، غیرملکی دہشتگردوں کو اپنی زمین استعمال کرنے سے روکنا چاہیے اور ان تمام دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالہ کرنا چاہیے جو خطے میں نئی جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے پاکستان کو اپنی سازشوں کا ہدف بنا رہے ہیں جس کے تدارک اور اپنے دفاع و قومی سلامتی کے لیے پاکستان کو ہر اقدام کرنے کا حق حاصل ہے اور اسی زمینی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے افغان بیسڈ دہشگردوں سے نمٹنے، سرحد پار دہشگردی میں ملوث عناصر کا صفایا کرنے جب کہ دہشت گردوں کی سرحد پار سے آمد و رفت روکنے کے لیے پاک فورسز نے پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے بھاری توپ خانہ سرحد پر پہنچادیا.

اس میں افغان حکومت کو جارحیت نہیں دوطرفہ سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے تقاضوں کا ادراک کرنا ہوگا اور ان بی جمالو قوتوں کا ہاتھ روکنا ہوگا جنہیں پاک افغان تعلقات پسند نہیں اور جو دہشتگردی کے ذریعے صورتحال کو خراب کرنے پر تلی ہوئی ہیں، چارسدہ واقعے اسی الم ناک دہشتگردی کا تسلسل ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ بم دھماکوں کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے شواہد کے بعد ہی پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے موثر نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ طورخم بارڈر منجمنٹ پر پاکستان کافی عرصہ پہلے سنجیدہ اقدامات کرچکا ہے، اس میں دوطرفہ مفاد مضمر ہے، جس میں دہشتگردوں کو روکنا ہی اصل محرک ہے، چنانچہ جو انتہائی مطلوب4 دہشت گرد گزشتہ روز مارے گئے ہیں، ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان عصمت اللہ شاہین گروپ سے ہے۔

پاکستان نے لاہور اور سیہون سانحات کے بعد ملک بھر میں کومبنگ آپریشن شروع کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے درست کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو دہشتگردی کے ناسور کا سامنا ہے، دہشتگرد کسی رنگ و نسل سے ہوں مشترکہ دشمن ہیں۔ اس لیے خطے کا مفاد دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی ہے۔

 
Load Next Story