پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں اہم فیصلہ
متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپرلیگ کا میلہ سجا ہوا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپرلیگ کا میلہ سجا ہوا ہے ۔ فوٹو: فائل
کرکٹ پاکستانیوں کا پسندیدہ ترین کھیل ہے، یوں سمجھیں کرکٹ ان کی رگوں میں لہوبن کر دوڑتی ہے۔ کرکٹ کا کوئی مقابلہ ہو تو پاکستانی شائقین کی اس میں دلچسپی، انہماک اوروالہانہ پن دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپرلیگ کا میلہ سجا ہوا ہے، جس نے شائقین کرکٹ کے دل لوٹ لیے ہیں اور اب ایک اوراہم خبر نے تو انھیں سرشاری کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہورمیں ہوگا اور ضرور ہوگا۔ کیونکہ مینجمنٹ اورفرنچائز مالکان کے مابین فیصلے پر اتفاق نے شائقین کرکٹ میں ایک جوش ،جذبہ اور ولولہ پیدا کردیا ہے۔ اتفاق رائے سے جو چند اہم نکات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ہرغیرملکی کرکٹرکو دس سے پچاس ہزار ڈالر اضافی معاوضہ اور وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
انگلینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، بنگلہ دیش اورزمبابوے سے تعلق رکھنے والے پچاس کے قریب کھلاڑی پاکستان آنے پر رضا مند ہیں ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم شائقین کرکٹ کے لیے چھوٹا نہ پڑجائے۔دراصل ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کے واقعات نے کرکٹ کے میدانوں کو سونا کردیا تھا اورشائقین کے دل مرجھائے ہوئے تھے،جب سپرلیگ کا اعلان ہوا تو مرجھائے چہرے اور دل کھل اٹھے لیکن اچانک لاہور میں خودکش بمبار نے دھماکا کردیا۔
لاہور اورملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے خودکش حملوں کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں نہیں ہوگا ، اور پاکستانی شائقین دنیاکے بہترین کرکٹرز کو ایکشن میں نہیں دیکھ سکیں گے، بلاشبہ کرکٹرز کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی تو دہشتگردوں کے مذموم مقاصد خاک میں مل جائیں گے۔
پاکستان سپرلیگ کی انتظامیہ نے وزیراعظم ،آرمی چیف اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو میچ دیکھنے کی دعوت دے کر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ کرکٹ کا مقابلہ ضرور لاہور میں ہوگا اور پاکستانی تماشائی اپنے ہوم گراؤنڈ پر انٹرنیشنل کرکٹرز کو ایکشن میں دیکھیں گے۔ زندہ دل قومیں کڑے سے کڑے حالات میں ایسے ہی دلیرانہ فیصلے کرتی ہیں جو پاکستانی قوم نے کیا ہے۔
ہم کامل یقین رکھتے ہیں کے پی ایس ایل کے لاہور میں فائنل کے انعقاد سے نہ صرف شائقین کرکٹ کو بہترین کھیل دیکھنے کو ملے گا بلکہ اس فائنل کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ ٹیموں کی پاکستان میں آمد کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا، پاکستانی کرکٹ کے میدان پھر سے آباد ہوجائیں گے اورکرکٹ کے وسیلے سے پاکستان روشن خیال امیج دنیا بھر میں ابھرئے گا، کیونکہ کھلاڑی اپنے اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور امن کے پیامبر بھی۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپرلیگ کا میلہ سجا ہوا ہے، جس نے شائقین کرکٹ کے دل لوٹ لیے ہیں اور اب ایک اوراہم خبر نے تو انھیں سرشاری کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہورمیں ہوگا اور ضرور ہوگا۔ کیونکہ مینجمنٹ اورفرنچائز مالکان کے مابین فیصلے پر اتفاق نے شائقین کرکٹ میں ایک جوش ،جذبہ اور ولولہ پیدا کردیا ہے۔ اتفاق رائے سے جو چند اہم نکات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ہرغیرملکی کرکٹرکو دس سے پچاس ہزار ڈالر اضافی معاوضہ اور وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
انگلینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، بنگلہ دیش اورزمبابوے سے تعلق رکھنے والے پچاس کے قریب کھلاڑی پاکستان آنے پر رضا مند ہیں ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم شائقین کرکٹ کے لیے چھوٹا نہ پڑجائے۔دراصل ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کے واقعات نے کرکٹ کے میدانوں کو سونا کردیا تھا اورشائقین کے دل مرجھائے ہوئے تھے،جب سپرلیگ کا اعلان ہوا تو مرجھائے چہرے اور دل کھل اٹھے لیکن اچانک لاہور میں خودکش بمبار نے دھماکا کردیا۔
لاہور اورملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے خودکش حملوں کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں نہیں ہوگا ، اور پاکستانی شائقین دنیاکے بہترین کرکٹرز کو ایکشن میں نہیں دیکھ سکیں گے، بلاشبہ کرکٹرز کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی تو دہشتگردوں کے مذموم مقاصد خاک میں مل جائیں گے۔
پاکستان سپرلیگ کی انتظامیہ نے وزیراعظم ،آرمی چیف اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو میچ دیکھنے کی دعوت دے کر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ کرکٹ کا مقابلہ ضرور لاہور میں ہوگا اور پاکستانی تماشائی اپنے ہوم گراؤنڈ پر انٹرنیشنل کرکٹرز کو ایکشن میں دیکھیں گے۔ زندہ دل قومیں کڑے سے کڑے حالات میں ایسے ہی دلیرانہ فیصلے کرتی ہیں جو پاکستانی قوم نے کیا ہے۔
ہم کامل یقین رکھتے ہیں کے پی ایس ایل کے لاہور میں فائنل کے انعقاد سے نہ صرف شائقین کرکٹ کو بہترین کھیل دیکھنے کو ملے گا بلکہ اس فائنل کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ ٹیموں کی پاکستان میں آمد کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا، پاکستانی کرکٹ کے میدان پھر سے آباد ہوجائیں گے اورکرکٹ کے وسیلے سے پاکستان روشن خیال امیج دنیا بھر میں ابھرئے گا، کیونکہ کھلاڑی اپنے اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور امن کے پیامبر بھی۔