شہر قائد میں جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی

منظم مافیائیں جرائم کے نیٹ ورک چلارہی ہیں جن کے خلاف تیزی سے کلین اپ آپریشن کا تسلسل ناگزیر ہے

فوٹو: فائل

شہر قائد میں امن کے قیام اور بدامنی و اسٹریٹ کرائم کو روکنے لیے جاری سہ جہتی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنا ناگزیر ہے ۔ گزشتہ روز کراچی پولیس سے مقابلے میں کالعدم ٹی ٹی پی ٹانک کے امیر سمیت 8دہشتگردوں کی ہلاکت سے دہشتگرد گروہوں کی کراچی کے شہری اور دورافتادہ غریب بستیوں میں روپوشی سے مسئلے کی سنگینی عیاں ہے، اور اب اس بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ کراچی کے کنکریٹ جنگل میں انتہا پسندوں ، فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلرزاور جرائم پیشہ عناصر میں گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے ابھی مزید کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

دہشتگردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی اور جنداللہ گروپ سے تھا۔ پولیس کے مطابق ہلاک دہشتگرد ملیر کورٹ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ پولیس ذرایع کے مطابق شہر میں مسلح اور خطرناک تربیت یافتہ قاتلوں کے کئی گروپ پناہ لیے ہوئے ہیں، جنھیں اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور پولیس و رینجرز کو مصروف رکھنے کے لیے مالی کمک اور افرادی ری انفورسمنٹ کی ہمہ وقت ضرورت پڑتی ہے۔


یہ گروہ مختلف علاقوں اور شہری حدود میں آپریٹ کرتے ہیں تاہم ان دنوں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ سخت چیکنگ اور مستعدی کے باعث ان کے خلاف گھیرا تنگ ہوگیا ہے، اس لیے ان کے تتربتر ٹولے اب مارکیٹوں کے تالے توڑنے، بینک ڈکیتیوں، بے تحاشا اسٹریٹ کرائم میں ملوث ہیں۔

ان گروہوں اور مجرمانہ کارروائیوں میں شریک کئی عناصر نو عمر ہیں، اس لیے صرف غربت اور بیروزگاری ہی جرائم کی بنیاد نہیں بلکہ منظم مافیائیں جرائم کے نیٹ ورک چلارہی ہیں جن کے خلاف تیزی سے کلین اپ آپریشن کا تسلسل ناگزیر ہے۔
Load Next Story