مطالبات کی عدم منظوری سندھ یونیورسٹی ملازمین کی ریلی وی سی دفتر پر دھرنا

جامعہ میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی ایمپلائیز ویلفیئر پھر سراپا احتجاج

سوٹا نے ملازمین کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا جبکہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر جامعہ میں پولیس اور رینجرز نے فلیگ مارچ بھی کیا۔ فوٹو: فائل

سندھ یونیورسٹی ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔

سوٹا نے ملازمین کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا جبکہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر جامعہ میں پولیس اور رینجرز نے فلیگ مارچ بھی کیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ یونیورسٹی جامشورو میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی پہلے روز ایمپلائز ویلفیئر ایسو سی ایشن نے اپنے مطالبات کے حل کے لیے زیرو پوائنٹ سے احتجاجی ریلی نکالی جو اے سی ٹو کے سامنے اختتام پذیر ہوئی جہاںمظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔




مقررین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو کئی بار مطالبات سے آگاہ کیا مگر پے اسکیل، اپ گریڈیشن، ملازمین کے لیے پلاٹ اور سن کوٹے کی بحالی سمیت غیر قانونی بھرتی کیے گئے ملازمین کی برطرفی کے حوالے سے اب تک کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، رجسٹرار اور یونیورسٹی انتظامیہ ملازمین کے خلاف غیر قانونی کارروائی کر رہے ہیں، انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے مگر وہ خوف زدہ ہونے والے نہیں اور مطالبات کے حل تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر سندھ یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران بھی ملازمین کے احتجاج میں اظہار یکجہتی کے طور پر شریک ہوئے اور ملازمین کی گرفتاریوں کو غیر قانونی کارروائی قرار دیا۔

انھوں نے ملازمین کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ دوسری جانب ایس پی ہیڈ کوارٹرز اور ایس ایچ او جامشورو نثار حسین شاہ کی قیادت میں پولیس اور رینجرز نے سندھ یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں امن و امان کے حوالے سے فلیگ مارچ کیا۔ فلیگ مارچ میں پولیس اور رینجرز کی متعدد موبائل شامل تھیں۔
Load Next Story