چکی مالکان کا نئے کوٹے کے تحت گندم اٹھانے کا فیصلہ

ہفتہ وار10 بوری گندم کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے گا، محکمہ خوراک حکام سے اجلاس

31 دسمبر تک جمع چالان پر گندم دینے کی بھی یقین دہانی، آٹے کی فراہمی میں بہتری ہو گی فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
آٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن حیدرآباد نے10 بوری فی پتھر فی ہفتہ کے حساب سے نئے کوٹے کے تحت سرکاری گندم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ فیصلہ محکمہ خوراک سندھ حکام کے ساتھ اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں شاہ نواز مگسی کے علاوہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنڑولر مسعود احمد صدیقی نے واضح یقین دھانی کرائی کہ ہفتہ وار10 بوری گندم کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ محکمہ فوڈ کے سکھر ریجن کے علاقے کنب سے سرکاری گندم، سرکاری باردانہ کے ساتھ ہی حیدرآباد شہر میں اوپن مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب ہے۔ سرکاری گندم کا ریٹ 2800 سو روپے ہے اور کنب سے آنے والی سرکاری گندم 3500 سو روپے میں کھلے عام دستیاب ہے۔




جس کی وجہ سے گندم کے ریٹ بڑھائے گئے ہیں اور سرکاری گندم فراہم نہیں کی جا رہی ہے اور اس عمل میں محکمہ فوڈ کے افسران بھی ملے ہوئے ہیں۔ ایک مرحلے پر اجلاس میں محکمہ خوراک کے ایک آفیسر نے ہنستے ہوئے یہ کہہ کر چکی مالکان کو رشوت کی ترغیب دی کہ وہ اوپن مارکیٹ سے 35 سو روپے فی بوری گندم خریدنے کو تیار ہیں تو انہیں ہی (محکمہ فوڈ کے افسران کو)50 روپے اضافی فی بوری فراہم کر دیں سارا معاملہ سیٹ ہو جائے گا۔ جس پر یہ بات مذاق سمجھ کر سب مسکرا دیے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ 31 دسمبر تک 4100 سو بوری کے جمع شدہ چالان پر گندم جاری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حکومت نے امسال 2850 روپے سو کلو گندم کی قیمت مقرر کی تھی لیکن پھر وزیر اعلی سندھ نے فی بوری 50 روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا، اب محکمہ خوراککی کالی بھیٹریں، سبسڈی پر دستیاب سرکاری گندم پر فی بوری 7 سو روپے منافع کما رہی ہیں جس کے لیے سکھر ریجن کی بند چکیوں کے نام سے کوٹہ جاری کر کے گندم اوپن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس سلسلے میں چکی اونرز کا ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں صورتحال پر غور اور فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ 10 بوری گندم کوٹہ حاصل کر کے اسے پسیں گے تاکہ شہر میں آٹے کے بحران میں کمی آئے۔
Load Next Story