مہنگائی کی شرح رواں سال 95 فیصد سے کم رہے گی گورنر اسٹیٹ بینک
مالی استحکام کیلیے محروم طبقات کی فنانشل شمولیت،صارف تحفظ،بہتررسک مینجمنٹ سمیت10نکاتی حکمت عملی پرتوجہ دے رہے ہیں،خطاب
اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی آلات کو استعمال کرتے ہوئے معیشت کی بحیثیت مجموعی ضابطہ کاری کرتا ہے، یاسین انور فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے ملک میں مالی نظام کی نمو کیلیے مرکزی بینک کی 10 نکاتی بینکاری حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا ہے۔
اس حکمت عملی میں محروم معاشی شعبوں کیلیے مالی شمولیت کے پروگرام کے نفاذ، قانون سازی وضابطہ اخلاق سے صارفین کے تحفظ کوبہتر، مزید شفافیت لا کر مسابقت وکارگزاری کو مضبوط بنانے، بینکاری سیکٹر کی کارپوریٹ گورننس اور رسک مینجمنٹ کے طریقوں کو مستحکم کرنے،پروڈنشل ریگولیشنز اور بینکوں کی نگرانی کے عمل کو مضبوط بنانے، مالی گروپوں اور بڑے کاروباری اداروں کی نگرانی کیلیے مستحکم فریم ورک متعارف کرانے، چھوٹے ڈپازٹرز'کم کاروباری قوت کے حامل اداروں اور غیرمتوقع معاشی بحرانوں کیلیے سیفٹی نیٹ کی تیاری، ایس بی پی ایکٹ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرا کر مانیٹری اور مالی استحکام قائم رکھنے کیلیے مرکزی بینک کے اختیارات کو بڑھانے، قرضہ مارکیٹوں، اسٹاک مارکیٹوں اور غیر بینک مالی اداروں کو ترقی دے کر مالی سیکٹر میں مزید گہرائی لانے اور ٹرانزیکشنز میں سہولت پیدا کرنے کیلیے پیمنٹ سسٹمز اور کریڈٹ انفارمیشن سسٹمز سمیت مالی انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
گزشتہ روز کراچی میں پی اے ایف ائر وار کالج میں ''پاکستانی معیشت میں مالی اداروں اور سرمایہ منڈیوں کا کردار'' کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد ایک کارگر، مسابقتی اور مضبوط مالی نظام پیدا کرنا ہے جو تیز معاشی نمو کیلیے تحریک فراہم کرسکے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو تحفظ بھی دے، تمام نکات کا یہی خلاصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا دہرا مینڈیٹ ہے۔ اسے قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنے کے مسئلے سے بھی نمٹنا ہوتا ہے اور معاشی نمو پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے، ہمیں مانیٹری استحکام اور ملکی وسائل کے بھرپور استعمال دونوں پر پوری توجہ دینی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکاری سیکٹر کے پورٹ فولیو کی مستقل نگرانی کی بنا پر آج ہمارے بینک منافع بخش، انتہائی توانا اور مضبوط ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ہموار اور مناسب طور پر چلتا ہوا مالی نظام اس امر کو یقینی بنا سکتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کے سگنلز مؤثر طور پر معیشت کو منتقل ہوں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی آلات کو استعمال کرتے ہوئے معیشت کی بحیثیت مجموعی ضابطہ کاری کرتا ہے، مانیٹری پالیسی آلات کی قوت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کتنے افراد قرض لینے اور دینے کے رسمی ذرائع کو سرگرمی سے استعمال کر رہے ہیں، حکومتی سیکیورٹیز کی خرید و فروخت کرنے والی سیکنڈری مارکیٹس متعارف کرانے اور ان منڈیوں میں بگاڑ کے خاتمے سے اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی آلات کو زیادہ قوت حاصل ہو گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے نشان دہی کی کہ پاکستان کو نہایت بلند گرانی (ہائیپرانفلیشن) کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم گزشتہ چند برس کے دوران گرانی اوسط سے بلند رہی ہے اور اس کے اثرات ہر ایک نے محسوس کیے ہیں، گزشتہ چند ماہ میں گرانی میں نمایاں کمی آئی، چنانچہ اسٹیٹ بینک نے بھی اپنی شرح سود کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
بنچ مارک ریٹ اب 9.5 فیصد ہے، ہمیں یہ توقع بھی ہے کہ سال کے دوران اوسط گرانی 9.5 فیصد سے کم رہے گی، گرانی میں کمی کا ایک جزوی سبب اسٹیٹ بینک کی طرف سے مانیٹری مینجمنٹ کی فعال پالیسیاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ منی مارکیٹ میں رقوم نہ تو کم پڑیں اور نہ ہی اضافی ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مانیٹری پالیسی سگنلز کی ٹرانسمیشن مؤثر طریقے سے ہوئی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ہماری ایکویٹی مارکیٹ ایشیا کی بہترین کارکردگی کی حامل اسٹاک مارکیٹوں میں شامل رہی ہے، جب سے ہم نے ایک سیکنڈری مارکیٹ قائم کی جو سرکاری قرضے کی خرید اور فروخت کر سکتی ہے ہماری فنانشل مارکیٹیں پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کا زیادہ جلد اور بہتر ردعمل فراہم کرنے لگی ہیں، یہ بات فنانشل سیکٹر کی اصلاحات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے۔
اس حکمت عملی میں محروم معاشی شعبوں کیلیے مالی شمولیت کے پروگرام کے نفاذ، قانون سازی وضابطہ اخلاق سے صارفین کے تحفظ کوبہتر، مزید شفافیت لا کر مسابقت وکارگزاری کو مضبوط بنانے، بینکاری سیکٹر کی کارپوریٹ گورننس اور رسک مینجمنٹ کے طریقوں کو مستحکم کرنے،پروڈنشل ریگولیشنز اور بینکوں کی نگرانی کے عمل کو مضبوط بنانے، مالی گروپوں اور بڑے کاروباری اداروں کی نگرانی کیلیے مستحکم فریم ورک متعارف کرانے، چھوٹے ڈپازٹرز'کم کاروباری قوت کے حامل اداروں اور غیرمتوقع معاشی بحرانوں کیلیے سیفٹی نیٹ کی تیاری، ایس بی پی ایکٹ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرا کر مانیٹری اور مالی استحکام قائم رکھنے کیلیے مرکزی بینک کے اختیارات کو بڑھانے، قرضہ مارکیٹوں، اسٹاک مارکیٹوں اور غیر بینک مالی اداروں کو ترقی دے کر مالی سیکٹر میں مزید گہرائی لانے اور ٹرانزیکشنز میں سہولت پیدا کرنے کیلیے پیمنٹ سسٹمز اور کریڈٹ انفارمیشن سسٹمز سمیت مالی انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
گزشتہ روز کراچی میں پی اے ایف ائر وار کالج میں ''پاکستانی معیشت میں مالی اداروں اور سرمایہ منڈیوں کا کردار'' کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد ایک کارگر، مسابقتی اور مضبوط مالی نظام پیدا کرنا ہے جو تیز معاشی نمو کیلیے تحریک فراہم کرسکے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو تحفظ بھی دے، تمام نکات کا یہی خلاصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا دہرا مینڈیٹ ہے۔ اسے قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنے کے مسئلے سے بھی نمٹنا ہوتا ہے اور معاشی نمو پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے، ہمیں مانیٹری استحکام اور ملکی وسائل کے بھرپور استعمال دونوں پر پوری توجہ دینی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکاری سیکٹر کے پورٹ فولیو کی مستقل نگرانی کی بنا پر آج ہمارے بینک منافع بخش، انتہائی توانا اور مضبوط ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ہموار اور مناسب طور پر چلتا ہوا مالی نظام اس امر کو یقینی بنا سکتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کے سگنلز مؤثر طور پر معیشت کو منتقل ہوں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی آلات کو استعمال کرتے ہوئے معیشت کی بحیثیت مجموعی ضابطہ کاری کرتا ہے، مانیٹری پالیسی آلات کی قوت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کتنے افراد قرض لینے اور دینے کے رسمی ذرائع کو سرگرمی سے استعمال کر رہے ہیں، حکومتی سیکیورٹیز کی خرید و فروخت کرنے والی سیکنڈری مارکیٹس متعارف کرانے اور ان منڈیوں میں بگاڑ کے خاتمے سے اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی آلات کو زیادہ قوت حاصل ہو گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے نشان دہی کی کہ پاکستان کو نہایت بلند گرانی (ہائیپرانفلیشن) کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم گزشتہ چند برس کے دوران گرانی اوسط سے بلند رہی ہے اور اس کے اثرات ہر ایک نے محسوس کیے ہیں، گزشتہ چند ماہ میں گرانی میں نمایاں کمی آئی، چنانچہ اسٹیٹ بینک نے بھی اپنی شرح سود کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
بنچ مارک ریٹ اب 9.5 فیصد ہے، ہمیں یہ توقع بھی ہے کہ سال کے دوران اوسط گرانی 9.5 فیصد سے کم رہے گی، گرانی میں کمی کا ایک جزوی سبب اسٹیٹ بینک کی طرف سے مانیٹری مینجمنٹ کی فعال پالیسیاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ منی مارکیٹ میں رقوم نہ تو کم پڑیں اور نہ ہی اضافی ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مانیٹری پالیسی سگنلز کی ٹرانسمیشن مؤثر طریقے سے ہوئی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ہماری ایکویٹی مارکیٹ ایشیا کی بہترین کارکردگی کی حامل اسٹاک مارکیٹوں میں شامل رہی ہے، جب سے ہم نے ایک سیکنڈری مارکیٹ قائم کی جو سرکاری قرضے کی خرید اور فروخت کر سکتی ہے ہماری فنانشل مارکیٹیں پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کا زیادہ جلد اور بہتر ردعمل فراہم کرنے لگی ہیں، یہ بات فنانشل سیکٹر کی اصلاحات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے۔