بینک چھوٹے کاروبار کی ترقی کیلیے اقدامات کریں عبدالمقتدر
ایس ایم ای سیکٹرکو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کیلیے حکمت عملیاں وضع کی جائیں
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کا ایس ایم ای بینکاری سے متعلق تربیتی پروگرام کے افتتاح پرخطاب۔ فوٹو: فائل
GILGIT:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر قاضی عبدالمقتدر نے مالی صنعت پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ دانشمندانہ اور جدت پسندانہ بینکاری طریقوں کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔
کراچی کے ایک ہوٹل میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی شراکت سے اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام 'ایس ایم ای بینکاری کاروبار کی ترویج' کے موضوع پر 3 روزہ تربیتی پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینکوں کو ایس ایم ای سیکٹر کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کیلیے حکمت عملیاں وضع کرنی چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کو ایس ایم ایز کے حوالے سے اپنا روایتی بینکاری طرز عمل ترک کرکے ایسی پراڈکٹس اور خدمات فراہم کرنی چاہئیں جو ایس ایم ای کے مختلف شعبوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کو کریڈٹ کی جانچ کے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے طریقے جیسے کریڈٹ اسکورنگ، کیش فلو پر مبنی قرض اور پروگرام پر مبنی قرض بھی تیار اور تشکیل دینے چاہئیں ۔ عبدالمقتدر نے نشاندہی کی کہ ایس ایم ای سیکٹر کا جی ڈی پی میں حصہ 30 فیصد ہے، غیر زرعی افرادی قوت کا 70 فیصد سے زائد اسی سیکٹر سے وابستہ ہے اور یہ سیکٹر ملکی برآمدی آمدنی میں 25 فیصد کا حصہ دار ہے تاہم اپنی اہمیت کے باوجود پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کی نمو میں کئی عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جن میں طلب کے عوامل بھی ہیں اور رسد کے بھی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایس ایم ای اداروں کے قرضوں کے اعدادوشمار حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں، ان اداروں کیلیے بینکوں کے قرضوں میں گزشتہ 4 سال میں کمی آئی ہے جو 2007 میں 437 ارب روپے تھے اور جون 2012 میں 248 ارب روپے رہ گئے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر قاضی عبدالمقتدر نے مالی صنعت پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ دانشمندانہ اور جدت پسندانہ بینکاری طریقوں کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔
کراچی کے ایک ہوٹل میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی شراکت سے اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام 'ایس ایم ای بینکاری کاروبار کی ترویج' کے موضوع پر 3 روزہ تربیتی پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینکوں کو ایس ایم ای سیکٹر کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کیلیے حکمت عملیاں وضع کرنی چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کو ایس ایم ایز کے حوالے سے اپنا روایتی بینکاری طرز عمل ترک کرکے ایسی پراڈکٹس اور خدمات فراہم کرنی چاہئیں جو ایس ایم ای کے مختلف شعبوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کو کریڈٹ کی جانچ کے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے طریقے جیسے کریڈٹ اسکورنگ، کیش فلو پر مبنی قرض اور پروگرام پر مبنی قرض بھی تیار اور تشکیل دینے چاہئیں ۔ عبدالمقتدر نے نشاندہی کی کہ ایس ایم ای سیکٹر کا جی ڈی پی میں حصہ 30 فیصد ہے، غیر زرعی افرادی قوت کا 70 فیصد سے زائد اسی سیکٹر سے وابستہ ہے اور یہ سیکٹر ملکی برآمدی آمدنی میں 25 فیصد کا حصہ دار ہے تاہم اپنی اہمیت کے باوجود پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کی نمو میں کئی عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جن میں طلب کے عوامل بھی ہیں اور رسد کے بھی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایس ایم ای اداروں کے قرضوں کے اعدادوشمار حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں، ان اداروں کیلیے بینکوں کے قرضوں میں گزشتہ 4 سال میں کمی آئی ہے جو 2007 میں 437 ارب روپے تھے اور جون 2012 میں 248 ارب روپے رہ گئے۔