کاروباری جرائم مشترکہ کمیٹی لائحہ عمل پر آج غور کریگی
ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، نیب، ایف آئی اے اور پولیس کے افسران شرکت کریں گے
وائٹ کالرکرائم وفراڈ کیخلاف حکمت عملی اوراداروں میں تعاون بڑھانے کا جائزہ لیاجائیگا۔ فوٹو: فائل
کاروباری سطح کی بے قاعدگیوں، بدعنوانیوں اور دھوکہ دہی پرقابو پانے کیلیے ریگولیٹری، قانون نافذ کرنیوالے اداروںپر مشتمل مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منگل کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ہوگا۔
اس مشترکہ اجلاس میں سیکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیب، ایف آئی اے، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور وفاقی و صوبائی محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران شرکت کرینگے، ریگولیٹری اور لاانفورسمنٹ ایجنسیز کے اس مشرکہ اجلاس میں ملک سے وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کیلیے مشترکہ جبکہ دھوکہ دہی اور فراڈ کیخلاف قومی حکمت عملی بنانے اور اداروں کے مابین تعاون بڑھانے پر غور کیا جائیگا۔
دھوکہ دہی اور فراڈ کے خاتمہ کیلیے قومی حکمت عملی میں رجسٹر اور غیر رجسٹر کاروباری کمپنیوں میں ہونیوالی کرپشن، بے ضابطگیوں اور غیرقانونی کاروبار کی روک تھام کیلیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائیگا جبکہ ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں کے مابین غیر قانونی کاروبار اور فراڈ میں ملوث کمپنیوں سے متعلق معلومات کے تبادلہ کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائیگا۔
اجلاس میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسران کو فنانشل کرائم کی تحقیق و تفتیش اور انکی مختلف اقسام کے بارے میں تربیت دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔ جوائنٹ کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک سے وائٹ کالر کرائم کا خاتمہ اور عوام کو کمپنیوں کی جعل سازی اور دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنا ہے۔
اس مشترکہ اجلاس میں سیکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیب، ایف آئی اے، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور وفاقی و صوبائی محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران شرکت کرینگے، ریگولیٹری اور لاانفورسمنٹ ایجنسیز کے اس مشرکہ اجلاس میں ملک سے وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کیلیے مشترکہ جبکہ دھوکہ دہی اور فراڈ کیخلاف قومی حکمت عملی بنانے اور اداروں کے مابین تعاون بڑھانے پر غور کیا جائیگا۔
دھوکہ دہی اور فراڈ کے خاتمہ کیلیے قومی حکمت عملی میں رجسٹر اور غیر رجسٹر کاروباری کمپنیوں میں ہونیوالی کرپشن، بے ضابطگیوں اور غیرقانونی کاروبار کی روک تھام کیلیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائیگا جبکہ ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں کے مابین غیر قانونی کاروبار اور فراڈ میں ملوث کمپنیوں سے متعلق معلومات کے تبادلہ کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائیگا۔
اجلاس میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسران کو فنانشل کرائم کی تحقیق و تفتیش اور انکی مختلف اقسام کے بارے میں تربیت دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔ جوائنٹ کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک سے وائٹ کالر کرائم کا خاتمہ اور عوام کو کمپنیوں کی جعل سازی اور دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنا ہے۔