آٹا انتظامیہ کی غلط پالیسیوں سے مہنگا ہوا کراچی تاجر اتحاد
محکمہ خوراک اور بروکرز ملے ہوئے ہیں، سرکاری گندم پر 300 روپے بوری بھتہ دینا پڑتا ہے۔
وزیر خوراک سندھ فلور مل مالکان سے مذاکرات کرکے آٹے کی قیمتوں کا تعین کریں۔ فوٹو : فائل
آل کراچی تاجر اتحاداور ریٹیلر گروسرزالائنس کراچی کے صدر انصار بیگ قادری نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران محکمہ خوراک، وزیر خوراک اور گندم کے بروکرز کی ملی بھگت کا نتیجا ہے۔
اناج مافیا کو لگام نہ دی گئی تو بحران شدت اختیار کر جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مل مالکان حکومت سے 100 بوری گندم کے حصول کیلیے مافیا کو 300 روپے فی بوری بھتہ ادا کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں کھلی مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اگر آٹے کی قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو آٹے کا بحران شدت اختیار کر جائے گا۔
انہوں نے وزیر خوراک سندھ آفتاب میمن سے اپیل کی کہ آٹے کی قیمتوں کیلیے فلور مل مالکان سے مذاکرات کے لیے جائیں اور آٹے کی قیمتوں کا تعین کیا جائے، حکومت سندھ کی جانب سے چکی کے آٹے کی قیمت 32 روپے اور فائن آٹے کی قیمت34 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ فلور ملز مالکان اپنی من مانی قیمتوں میں آٹا ہول سیلرز کو فروخت کر رہے ہیں۔
جبکہ ہول سیلرز اور ریٹیلرز چاہتے ہیں کہ حکومت کی طے شدہ قیمتوں پر آٹا عوام کو فراہم کیا جائے۔ انصار بیگ قادری نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی قہرالہٰی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، حکومت طاقتور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کے باعث آٹے جیسی بنیادی اجناس کی قیمت میں اضافہ موجودہ دور میں غریبوں کو جیتے جی مار دینے کے متراد ف ہے، آٹے کی قیمت میں اضافہ کھلا ظلم اور ناا نصافی ہے۔
اناج مافیا کو لگام نہ دی گئی تو بحران شدت اختیار کر جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مل مالکان حکومت سے 100 بوری گندم کے حصول کیلیے مافیا کو 300 روپے فی بوری بھتہ ادا کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں کھلی مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اگر آٹے کی قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو آٹے کا بحران شدت اختیار کر جائے گا۔
انہوں نے وزیر خوراک سندھ آفتاب میمن سے اپیل کی کہ آٹے کی قیمتوں کیلیے فلور مل مالکان سے مذاکرات کے لیے جائیں اور آٹے کی قیمتوں کا تعین کیا جائے، حکومت سندھ کی جانب سے چکی کے آٹے کی قیمت 32 روپے اور فائن آٹے کی قیمت34 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ فلور ملز مالکان اپنی من مانی قیمتوں میں آٹا ہول سیلرز کو فروخت کر رہے ہیں۔
جبکہ ہول سیلرز اور ریٹیلرز چاہتے ہیں کہ حکومت کی طے شدہ قیمتوں پر آٹا عوام کو فراہم کیا جائے۔ انصار بیگ قادری نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی قہرالہٰی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، حکومت طاقتور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کے باعث آٹے جیسی بنیادی اجناس کی قیمت میں اضافہ موجودہ دور میں غریبوں کو جیتے جی مار دینے کے متراد ف ہے، آٹے کی قیمت میں اضافہ کھلا ظلم اور ناا نصافی ہے۔