لیاری ایکسپریس وے مکانات منہدم کرنے کیخلاف حکم امتناع

آئندہ سماعت تک حالت جوںکی توں رکھنے کی ہدایت، مدعاعلیہان کو نوٹس جاری.

نوٹس یا انتباہ کے بغیر مکانات منہدم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، درخواست گزار فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے لیاری ایکسپریس وے کی توسیع کیلیے لیاقت آبادٹائون میں مکانات کے انہدام کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک حالت جوںکی توں رکھنے کی ہدایت کی ہے اور چیف سیکریٹری،ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ،کمشنرکراچی،پروجیکٹ ڈائریکٹر،انسداد تجاوزات سیل اور دیگر کو 31جنوری کیلئے نوٹس جاری کردیے ہیں۔


شوکت شیخ ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں محمدحنیف سمیت 32درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار لیاقت آباد کے رہائشی ہیں،حکومت لیاری ایکسپریس وے کی توسیع کے سلسلے میں اس علاقے میں گھروں کو منہدم کررہی ہے اور درخواست گزاروں کے مکانات کو بھی منہدم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اس سلسلے میں کوئی نوٹس یا انتباہ نہیں دیا گیا۔

درخواست گزاروں کے لیز شدہ مکانات قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے پہلے مرحلے میں متاثر ہونے والی کچی آبادیوں کے مکینوں کو متبادل اراضی اور معاوضہ بھی ادا کیا گیا ہے، اس ضمن میں فاضل عدالت کا واضح فیصلہ موجود ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کے لیز شدہ مکانات کو منہدم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس حوالے سے معاوضہ اداکرنے کی بھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی جو کہ درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے،مدعا علیہان کو حکم دیا جائے کہ عدالت کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں متبادل اراضی اور معاضہ ادا کریں۔
Load Next Story