شہری کی غیر قانونی حراست قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے جواب طلب

احسان اللہ کو 19نومبر2012 کوقانون نافذ کرنیوالے ادارے کے اہلکاروں نے ملیرآتے ہوئے بس سے حراست میں لیا،درخواست گزار.

ایک ہفتے میں مکمل رپورٹ اورجواب داخل نہ کرنے پر غفلت کے ذمے دار افسران کیخلاف کارروائی کی جائیگی، سندھ ہائی کورٹ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایس ایس پی سی آئی ڈی ، ایس آئی یو اور دیگر اداروں کوشہری کی غیرقانونی حراست کی درخواست پرجواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

درخواست گزار ا کبر حسین نے موقف اختیارکیا ہے کہ اس کے بھائی احسان اللہ کو 19نومبر2012 کوقانون نافذ کرنیوالے ادارے کے اہلکاروں نے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ بس میں سوار تھا اور ملیر آرہا تھا ،درخواست گزار کے مطابق جب سے اس کے بارے میںعلم نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے ،درخواست گزارکے مطابق ان کا تعلق وزیرستان سے ہے، درخواست گزار نے متعلقہ پولیس سے بھائی کواغوا کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی لیکن پولیس نے موثر کارروائی نہیںکی اور نہ ہی قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اسے کسی عدالت میں پیش کیا جو کہ قانون کا تقاضا ہے ۔




یہاں تک کہ ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس کے بھائی کے خلاف الزامات کیا ہیں ، مقدمے کی سماعت کے موقع پر انسپکٹر قمرالزماں نے عدالت کو بتایا کہ اے آئی جی لیگل علی شیر جکھرانی کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے سلسلے میں سپریم کورٹ اسلام آباد گئے ہوئے ہیں، وہ بہتر طریقے سے عدالت کی معاونت کرسکیں گے ۔

اس لیے جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت دی جائے ، فاضل بینچ نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام تفتیشی اداروںکا ایک سا ہی حال ہے، فاضل بینچ نے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے آئی جی کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کی جانب سے جواب داخل کرنے کو یقینی بنائیں اورلاپتہ شہری کے بارے میں رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے، ورنہ غفلت کے ذمے دار افسران کیخلاف عدالت کارروائی کرے گی۔
Load Next Story