2 ماہ کی تنخواہ کی عدم ادائیگی پرکے ایم سی ملازمین کااحتجاج
سینی ٹیشن اسٹاف کے احتجاج کے باعث مختلف ٹائونز میں صفائی کا کام متاثر.
گورنر سندھ اسپیشل گرانٹ جاری کرکے مالی بحران کو ختم کرائیں،مزدور رہنما. فوٹو: فائل
میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے چیئرمین سید ذوالفقارشاہ ، یونائٹیڈ ورکرز موومنٹ صدر ٹائون کے صدر سید غلام حسین شاہ ، یونائٹیڈ ورکرز یونین صدر ٹائون کے جنرل سیکریٹری پرویز خان جدون ، لیبریونین کے رہنما بنارس جدون، سید رضا شاہ ، محمد شفیع ، پھول محمد خان اور دیگر نے کہا ہے کہ صدر ٹائون ، لیاری ٹائون اور کے ایم سی کے ہزاروں ملازمین نے دو دو ماہ کی تنخواہو ں ، پنشن ، فائر رسک الائونس اور دیگر واجبات کی ادائیگیوں کے لیے صد رٹائون ورکشاپ میں دوگھنٹے کی علامتی ہڑتال کی۔
اس دوران کچرے اٹھانے والی گاڑیا ںبطور احتجاج ورکشاپ میں کھڑی رہیں اور سینی ٹیشن اسٹاف کے احتجاج کی وجہ سے صفائی ستھرائی کا نظام متا ثر ہوا ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنمائوں نے کہا کہ دو گھنٹے کی علامتی ہڑتا ل کی ہے اگر آج شام 4بجے تک او زید ٹی اور پراپرٹی ٹیکس کی گرانٹ جاری نہ کی گئی تو پھر مکمل طور پرکام بند کردیا جائے گا۔
اس دوران بلدیاتی انتظامیہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ او زید ٹی کی ماہوار گرانٹ اور جن ٹائونز کی جون 2012ء کے دوران پراپرٹی ٹیکس کی کلیکشن ہوئی ہے، ان ٹائونز کے پراپرٹی ٹیکس کا شیئرز جاری کردیا گیا ہے جس پر ملازمین نے اجلاس میں متفقہ طور پر احتجاجی تحریک 5روز کے لیے موخرکردی جبکہ فائر بریگیڈ کے ملازمین نے اپنی دو ماہ کی تنخواہوں اور چار ماہ کا فائر رسک الائونس کی عدم ادائیگی کے خلاف فائر ہیڈ کوارٹر نزد سول اسپتال کے احاطے میں بچوں اور اہل خانہ کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا اورنعرے بازی بھی کی،مظاہرین نے ہاتھوںمیں بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے۔
بعد ازاں اعلیٰ حکام کی یقین دہانی پر فائر فائٹرز نے احتجاج ختم کردیا اور پرامن طور پر منتشر ہوگئے، دریں اثنا میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے چیئرمین سید ذوالفقار شاہ نے گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ ، چیف سیکریٹری ، فنانس سیکریٹری اور سیکریٹری بلدیات سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے بلدیاتی اداروںکو مالی بحران سے نکالنے کیلیے اسپیشل گرانٹ جاری کرکے مالی بحران کو ختم کرائیں تاکہ ملازمین کے گھروںکی فاقہ کشی کو ختم کرایا جاسکے، صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری لائی جاسکے۔
اس دوران کچرے اٹھانے والی گاڑیا ںبطور احتجاج ورکشاپ میں کھڑی رہیں اور سینی ٹیشن اسٹاف کے احتجاج کی وجہ سے صفائی ستھرائی کا نظام متا ثر ہوا ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنمائوں نے کہا کہ دو گھنٹے کی علامتی ہڑتا ل کی ہے اگر آج شام 4بجے تک او زید ٹی اور پراپرٹی ٹیکس کی گرانٹ جاری نہ کی گئی تو پھر مکمل طور پرکام بند کردیا جائے گا۔
اس دوران بلدیاتی انتظامیہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ او زید ٹی کی ماہوار گرانٹ اور جن ٹائونز کی جون 2012ء کے دوران پراپرٹی ٹیکس کی کلیکشن ہوئی ہے، ان ٹائونز کے پراپرٹی ٹیکس کا شیئرز جاری کردیا گیا ہے جس پر ملازمین نے اجلاس میں متفقہ طور پر احتجاجی تحریک 5روز کے لیے موخرکردی جبکہ فائر بریگیڈ کے ملازمین نے اپنی دو ماہ کی تنخواہوں اور چار ماہ کا فائر رسک الائونس کی عدم ادائیگی کے خلاف فائر ہیڈ کوارٹر نزد سول اسپتال کے احاطے میں بچوں اور اہل خانہ کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا اورنعرے بازی بھی کی،مظاہرین نے ہاتھوںمیں بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے۔
بعد ازاں اعلیٰ حکام کی یقین دہانی پر فائر فائٹرز نے احتجاج ختم کردیا اور پرامن طور پر منتشر ہوگئے، دریں اثنا میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے چیئرمین سید ذوالفقار شاہ نے گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ ، چیف سیکریٹری ، فنانس سیکریٹری اور سیکریٹری بلدیات سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے بلدیاتی اداروںکو مالی بحران سے نکالنے کیلیے اسپیشل گرانٹ جاری کرکے مالی بحران کو ختم کرائیں تاکہ ملازمین کے گھروںکی فاقہ کشی کو ختم کرایا جاسکے، صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری لائی جاسکے۔