بلدیہ عظمیٰ آڈیٹرجنرل کے اعتراضات دور کرنے میں ناکام

افسران اعتراضات دور کرنے میں مصروف، گذشتہ سال کے آڈٹ پر44اعتراضات لگائے گئے،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا.

بلدیہ عظمیٰ کے افسران میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے، کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے تو کارروائی کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے،ذرائع. فوٹو:فائل

بلدیہ عظمیٰ آڈیٹرجنرل کی طرف سے لگائے گئے اعتراضات دور کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

افسران اعتراضات کو دور کرنے میں مصروف ہیں، گذشتہ سال کے آڈٹ پر44اعتراضات لگائے تھے جنھیں باقاعدہ کتابی شکل دیکر سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا، یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر بلدیہ عظمیٰ کے افسران کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے توپبلک اکاؤنٹس کمیٹی افسران کے خلاف باضابطہ کارروائی کا حکم بھی دے سکتی ہے۔


تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ آڈیٹرجنرل کی طرف سے لگائے گئے اعتراضات کو دور کرنے میں ناکام ہوگئی ہے تاہم ادارے کے افسران آج کل اعتراضات کو دور کرنے میں مصروف ہیں،آئندہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا جائے گا، اس صورتحال میں بلدیہ عظمیٰ کے افسران کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، باخبر ذرائع نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل نے بلدیہ عظمیٰ کے گزشتہ سال کے آڈٹ پر44اعتراضات لگائے تھے جس میں کہا گیا کہ ادارے میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں ان اعتراضات کو باقاعدہ کتابی شکل دے کر سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا۔



آئندہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھائے جانے کا واضح امکان ہے جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ کے افسران میں شدید خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے اوروہ تسلسل کے ساتھ ان اعتراضات کا جواب دینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں تاکہ کمیٹی کے سامنے یہ کہ سکیں بعض تکنیکی مسائل کے باعث آڈیٹرجنرل نے اعتراضات کیے ہیں، ان اعتراضات کو دور کردیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ ضروری نہیں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بلدیہ عظمیٰ کے افسران کے جواب سے مطمئن ہوجائے اگر افسران کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے تو کمیٹی بلدیہ عظمیٰ کے افسران کے خلاف باضابطہ کارروائی کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
Load Next Story