بینظیر انکم سپورٹ جیسا ایک اور پروگرام جلد شروع کرینگے صدر زرداری

عوام نے پھر موقع دیا تولوگوں کی ترقی اور ملک کی خدمت جاری رکھیں گے، آئندہ انتخابات وقت پر منعقد ہوں گے

کراچی:بختاور اور آصفہ بھٹو وسیلہ حق کی تقریب میں خواتین کو سرٹیفکیٹ دے رہی ہیں،صدر بھی موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

صدر آصف علی زردادری نے کہا ہے کہ حکومت لوگوں کو روزگار کی فراہمی کیلیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز کا ایک اور بڑا پروگرام شروع کرنے جارہی ہے۔

اس پروگرام کی تیاری پر کام جاری ہے، جلد اس کا اعلان کردیا جائے گا۔ عوام نے موقع دیا تو آئندہ بھی برسراقتدار آکر عوام کی ترقی اور ملک کی خدمت کا سفرجاری رکھیں گے۔ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے ، سیاسی قوتیں اور عوام انتخابات کی تیاری کریں ۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مختلف فنی شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والے ڈیڑھ لاکھ افراد کو روزگار کی فراہمی کے لیے بیرون ملک بھجوائیں گے۔ وہ پیر کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وسیلہ حق اور وسیلہ روزگار پروگرام کی قرعہ اندازی کی تقریب اور وفد سے خطاب کررہے تھے۔

تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، مختلف وفاقی و صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔ صدر آصف علی زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں فنی تربیت حاصل کرکے کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے جبکہ صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادیوں بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری نے وسیلہ روزگار پروگرام کی قرعہ اندازی کے ذریعے خوش نصیب خواتین میں ڈیڑھ ڈیرھ لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے ۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آج ہمارے لیے انتہائی خوش قسمتی کا دن ہے کہ آج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت10 ہزار سے زائد بچوں نے مختلف فنی شعبوں میں تربیت مکمل کرلی ہے۔ یہ لوگ اب باعزت طریقے سے اپنی محنت سے روزگار کما سکیں گے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کرسکیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہیدوں کا پروگرام ہے، اس کو شہید بینظیر بھٹو کے نام پر شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی شفافیت کو عالمی اداروں نے تسلیم کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مقصد لوگوں کو روزگار کی فراہمی ہے اور اسی مقصد کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں کو مختلف شعبوں میں فنی تربیت دی جا رہی ہے۔ حکومت ہنر مند افراد کی مالی امداد بھی کرے گی تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرکے اپنے خاندان کی کفالت کے ساتھ دوسرے افراد کی بھی مدد کرسکیں۔


صدر نے کہا کہ اگر کوئی شخص ٹیکسیوں کی مرمت اور مچھلیاں پکڑنے کی تربیت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنی تربیت مکمل ہونے کے بعد حکومت اس کو ٹیکسی خریدنے کے لیے مالی مدد بھی فراہم کرے گی ۔ جب وہ ایک دفعہ ٹیکسی خرید لے گا تو مچھلیاں بھی پکڑے گا اور اپنے اس کاروبار کے ذریعے نہ صرف وہ اپنی کفالت کرے گا بلکہ مزید چار خاندانوں کے افراد کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بنے گا ۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے نواجوان ہنر مند ہوں اور وہ کسی پر انحصار کرنے کی بجائے خود باعزت طریقے سے روزی کما سکیں ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام انتہائی کامیابی سے چلایا جا رہا ہے اور اس کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ بی آئی ایس پی پروگرام کا دائرہ ابھی چھوٹا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کو مزید بڑھا دیا جائے گا۔



صدر نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مزید28 ہزار نوجوان اس سے مستفیض ہوں گے ۔ اللہ نے ہمیں آج عزت اور مقام دیا ہے اور اسی عزت اور مقام کی بدولت ہم لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اور انشاء اللہ خدمت کا سفر جاری رکھیں گے ۔ صدر نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ کو ہدایت کی کہ وہ ایک پروگرام کے تحت فنی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کی فراہمی کے لیے پروگرام تیار کریں۔ دریں اثناء گھوٹکی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نظام میں اصلاحات کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے ، ملک میں پہلی مرتبہ جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کر رہی ہے ۔ صدر زرداری سے سردار علی گوہر خان مہر ، سید ناصر حسین شاہ ، جام سیف اللہ دھاریجو ، جام مہتاب ڈہر اور دیگر نے ملاقات کی ۔

ملاقات میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں سیاسی صورت حال خصوصاً ضلع گھوٹکی کے سیاسی معاملات ، ترقیاتی کاموں اور دیگر امور پر تفصیلی مشاورت کی گء ۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے حکومت نے بینظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی پر عمل کیا ۔ آج اسی پالیسی کی بدولت ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوچکا ہے اور اب کوئی جمہوری نظام کو عدم استحکام کر نے کی سازش میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ صدر نے کہا کہ اگر کوئی جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے تجاویز دینا چاہتا ہے تو وہ جمہوری طریقے سے حکومت سے بات کرے ۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے پہلے بھی بات چیت کی ہے اور آئندہ بھی سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن کسی کو جمہوریت کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

صدر نے کہا کہ نگراں حکومت کے قیام کے حوالے سے تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کی جائے گی ۔ آئندہ انتخابات میں جو پارٹی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل کرے گی اور عوام جسے منتخب کریں گے، آئینی طریقے سے حکومت اس کے حوالے کردی جائے گی ۔ صدر نے گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور عمائدین شہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مل جل کر اپنے ضلع کی ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے کام کریں اور ضلع گھوٹکی میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے ۔ انھوں نے مہر برادری کی درخواست پر گھوٹکی میں جلسہ عام منعقد کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق جلسہ عام میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے۔
Load Next Story