مہاراشٹر میں مسلم کش فسادات پولیس فائرنگ سے سے6 مسلمان شہید

80 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے

مہاراشٹر :بھارتی پولیس اہلکار مسلم کش فسادات کے دوران تباہ ہونے والی گاڑی کا معائنہ کررہے ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع دھولیہ میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پولیس فائرنگ سے 6 مسلمان شہید اور80 سے زائد افراد زخمی ہو گئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مشہور صنعتی شہر دھولیہ میں مسلم رکشا ڈرائیور کی ہجوم کے ہاتھوں پٹائی کے بعد واقعہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرگیا۔ رکشا ڈرائیور کے حق میں جمع ہونیوالے ہجوم کو منتشر کرنے کیلیے پولیس نے اندھا دھند لاٹھی چارج اور فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 6مسلمان جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔




فسادیوں نے مسلم بستی مادھو پورہ کو بھی آگ لگا دی اور فائر بریگیڈ کے عملے کو آگ بجھانے کی اجازت نہیں دی۔علاقے میں کرفیو کے باوجود مسلمانوں کی املاک لوٹنے کا سلسلہ جاری رہا جبکہ پولیس نے مسلمانوں کے گھروں کے دروازے توڑکر مسلم نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی شروع کردیں۔

مسلمانوں کا کہناہے کہ پولیس نے یکطرفہ طاقت کا استعمال کیا جس کا ثبوت پولیس فائرنگ میں زخمی اور جاں بحق ہونیوالے مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ فساد کے بعد ہندو اکثریتی آبادی والے علاقوں میں آباد مسلمانوں میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اور بہت سے مسلمان گھرانوں نے محفوظ علاقوں میں پناہ لی۔
Load Next Story